مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 695 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 695

مشعل راه جلد سوم 695 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی تعالیٰ عنہا ) جب کبھی حضور سے ملنے آتیں تو حضور ان کے لئے کھڑے ہو جاتے ، ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے ، اپنے بیٹھنے کی جگہ پر ان کو بٹھاتے۔اسی طرح جب حضور ملنے کے لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یہاں تشریف لے جاتے تو وہ کھڑی ہو جاتیں۔حضور کے دست مبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنے بیٹھنے کی جگہ پر حضور کو بٹھاتیں۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الادب۔باب فی القیام) بخاری کتاب الزکوۃ سے یہ روایت لی گئی ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک غریب عورت میرے پاس آئی جس نے اپنی دو بچیاں اٹھا رکھی تھیں۔میں نے ان کو تین کھجوریں دیں۔اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کھانے کے لئے اپنے منہ میں ڈالنے لگی لیکن یہ کھجور بھی اس کی بیٹیوں نے مانگ لی۔اس پر اس نے اس کھجور کے، جسے وہ کھانا چاہتی تھی ، دو حصے کئے اور دونوں کو ایک ایک حصہ دے دیا۔مجھے اس کی یہ ادا بہت پسند آئی اور میں نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت واجب کر دی۔یا یہ فرمایا کہ اس ( شفقت) کی وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا۔(بخاری كتاب الزكواة باب اتقوا النار ولو بشق تمرة) تو بچوں سے پیار کرنا یہ محض اپنے قلبی جذبات کا اظہار ہی نہیں بلکہ اللہ کو بچے اتنے پیارے ہیں کہ ان سے پیار بھی اللہ کو پیارا لگتا ہے۔اب ماں نے اپنے طبعی جذبے سے ان بچیوں کے لئے قربانی دی لیکن اللہ نے اپنے لئے تعالی کو یہ ادا پسند آئی اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ایسی ماؤں پر جو بچپن سے بچوں سے محبت کا سلوک کرتی ہیں ان پر جہنم حرام کر دی جاتی ہے۔ایک دوسری روایت کا ترجمہ یہ ہے۔ابورافع بن عمر والغفاری کے چچا سے مروی ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں ابھی بچہ ہی تھا تو انصار کی کھجوروں پر پتھر مار مار کر پھل گرا یا کرتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ یہاں ایک لڑکا ہے جو ہماری کھجوروں کو پتھر مارتا ہے اور پھل گراتا ہے۔چنانچہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے پوچھا ”اے لڑکے تو کیوں کھجوروں کو پتھر مارتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ”تاکہ میں کھجور میں کھا سکوں، فرمایا ” آئندہ کھجور کے درخت کو پتھر نہ مارنا۔ہاں جو پھل گر جائے اسے کھا لیا کر۔پھر آپ نے میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور دعا دی کہ اللَّهُمَّ اَشْبِعْ بَطْنَهُ “اے میرے اللہ ! اس کا پیٹ بھر دے۔(مسند احمد بن حنبل - جلد 5 صفحہ 31 مطبوعہ بیروت)