مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 697 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 697

مشعل راه جلد سوم 697 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہے۔آج کل بچوں کی تربیت میں وہ کوتاہیاں کی جارہی ہیں جن کے نتیجہ میں پھر ان کے لئے فتنے پیدا ہوتے ہیں۔اولاد کی تربیت سے لامتناہی سلسلہ صدقات کا شروع ہو جاتا ہے حضرت جابر بن سمرہ کی ترندی کتاب البر والصلۃ میں یہ روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنا صدقہ دینے سے زیادہ بہتر ہے۔صدقہ دینا تو بہت اچھا ہے مگر اولاد کی تربیت سے لامتناہی سلسلہ صدقات کا شروع ہو جاتا ہے۔اچھی تربیت والی اولا د جو آئندہ کے لئے نیکی کا موجب بنتی ہے وہ صدقہ دیتی ہے اور اس کی اولا د آگے اولا داور یہ محبت کا سلسلہ نسلاً بعد نسل چلتا ہے۔پس یہ معنی ہیں کہ ایک صدقہ تم دے دو وہ تو وہیں رک جائے گا مگر اولاد کی تربیت اچھی کرو گے تو اولاد تمہارے لئے ایک صدقہ جاریہ ثابت ہوگی۔ایک حدیث سنن ابی داؤد سے لی گئی ہے۔حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی ایک بیٹی ہو پھر وہ اسے زندہ درگور نہ کرے، نہ ہی اس کی تذلیل کرے اور اپنے دیگر) بچوں کو یعنی لڑکوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔(سنن ابی داؤد۔کتاب الادب ) زندہ درگور کا تو اب وقت نہیں رہا مگر زندہ درگور روحانی معنوں میں لوگ کر دیا کرتے ہیں۔اپنی بچیوں کی بد تربیت کے ذریعہ یا ان کی تربیت سے عافل رہنے کی وجہ سے عملاً ان کو زندہ درگور ہی کر دیتے ہیں۔پس یہ حدیث بھی پرانے زمانہ پر صرف اطلاق نہیں پاتی اس زمانہ پر بھی اطلاق پا رہی ہے۔”وہ نہ ہی اس کی تذلیل کرے“۔بہت سی بچیاں شکایت کرتی ہیں کہ ہمارے ماں باپ بڑی ذلت سے ہم سے سلوک کرتے ہیں، حقیر جانتے ہیں اور وہ اس کی وجہ سے نفسیاتی مریضہ بن جاتی ہیں اور عمر بھر ان کو یہ روگ لگ جاتا ہے۔تو ماں باپ کو اپنے بچوں سے بھی بہت پیار کا سلوک کرنا چاہیے۔بعض دفعہ اگر کسی کے بیٹیاں ہی ہوں اور بیٹا نہ ہو تو جو بدخلق والا ہے وہ بیوی کو بھی طعنے دیتا رہتا ہے اور بچی کو بھی۔تو یہ بہت ہی گندی رسمیں ہیں جو بدبختی سے ہمارے ملک میں بہت پائی جاتی ہیں۔یہ شکر ہے کم سے کم یورپ اور انگلستان میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ گندگی نہیں۔تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نصیحت پر خوب غور کریں کہ نہ ہی اس کی تذلیل کرے اور اگرلڑ کے ہوں تو لڑکیوں کو اس پر ترجیح نہ دے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ جنت عطا فرمادے گا۔