مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 434 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 434

434 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم نے کھانا کھایا ہو تو چہرے کی طمانیت کا رنگ ہی اور ہوتا ہے۔انسان دیکھتے ہی پہچان جاتا ہے کہ آج نہ صرف کھا نا ملا ہے بلکہ اچھا کھانا ملا ہے اور سیر ہو کر کھایا گیا ہے۔تو روحانی کھانے کا کیوں طبیعتوں پر ایسا اثر نہ ہو کیسے ممکن ہے کہ ( دین حق ) آپ کی روحوں کو سیراب کر چکا ہوں ( دین حق ) کی غذا آپ کے دلوں کو مطمئن کر چکی ہو اور آپ کے چہروں پر وہ غیر قو میں طمانیت کے آثار نہ دیکھیں۔ناممکن ہے۔پس خالی دلوں کو لے کر ایسے خون کے ساتھ جس میں ( دین حق ) سرایت نہ کر چکا ہو آپ دنیا کی قوموں کو نہ اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں نہ ( دین حق) کی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔پس تقریبات ایسی منعقد کیا کریں۔بعض دفعہ جن میں غیر تنظیموں کو بلایا جائے۔ان کے ساتھ قدر مشترک ڈھونڈی جائے ان کو بتایا جائے کہ ایک طریقہ تم نے اختیار کیا ہے جسے تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دلوں کی پیاس بجھ رہی ہے ایک ہمارا بھی طریقہ ہے اس کو بھی آکر دیکھو اور دیکھو کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فرق ہے۔ہمیں ایک ایسی طمانیت نصیب ہو چکی ہے جس کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ صرف یہ دنیا ہی نہیں بلکہ اس دنیا کے بعد کے مقاصد کو بھی ہم نے پالیا ہے۔یہ وہ مقصد ہے جسے خدام الاحمدیہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے ماحول کی اپنے گردو پیش کی تنظیمات سے رابطے قائم کرنے چاہئیں۔آپ کے اندر خواہ کتنا ہی جوش و خروش ہو، خواہ آپ کے اندر کتنی ہی حرکت پائی جائے اور قوت عمل جاری وساری دکھائی دے روابط کے بغیر آپ اپنے ماحول کو متحرک نہیں کر سکتے۔خدام گر دو پیش سے ایسا تعلق پیدا کریں جو ان کو حرکت میں لائے آپ نے موٹروں کو دیکھا ہے یعنی موٹر کاروں کو۔اس میں کیچ ہوتے ہیں، گئیر ز ہوتے ہیں۔انجن خواہ کتنی ہی تیز رفتاری سے گھوم رہا ہو اگر کیچ کے ذریعہ آپ گئیر کے ساتھ انجن کا تعلق پیدا نہ کریں تو کار حرکت میں نہیں آئے گی۔اس لئے آپ کو خدا تعالیٰ نے کار کے طور پر نہیں انجن کے طور پر پیدا کیا ہے آپ نے ساری دنیا کی گاڑی کو چلانا ہے۔آپ کی اندرونی حرکت اپنی ذات میں آپ صحت کی علامت تو ہے لیکن آپ کی زندگی کا آخری مقصد نہیں جب تک ایسے گئیر کا انتظام نہ کیا جائے جس سے آپ کی حرکت آپ کے گردو پیش میں منتقل ہونے لگے اور گرد و پیش کی تنظیمات کو متحرک کر دے جب تک ایسا نہ ہواس وقت تک آپ اپنے اعلیٰ مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے یا جس مقصد کی خاطر آپ کو پیدا کیا گیا ہے اس کی تکمیل سے آپ اگر پوری طرح محروم نہیں رہیں گے تو بہت حد تک محروم رہیں گے تو اس لئے اب ضرورت ہے اس