مشعل راہ جلد سوم — Page 433
مشعل راه جلد سوم 433 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی حسین ( دین حق ) کی تصویر خدام نے دکھانی ہے۔پس یہ ( دین حق ) ہی ہے جس نے بالآ خر قوموں کے لئے قلبی سکون کا کام کرنا ہے لیکن کون سا ( دین حق ) ؟ یقیناً وہ ( دین حق ) نہیں جو ایران کے شیشے میں دیکھا جاتا ہے یا لیبیا کے آئینے میں دکھائی دیتا ہے یا سعودی عرب کے چہرے پر جس کے آثار دکھائی دیتے ہیں اور جس سے آزاد قوموں کی طبیعتیں متنفر ہوتی ہیں اور دور بھاگتی ہیں۔وہی ( دین حق ) اور صرف وہی ( دین حق ) آج انہیں قائل کر سکتا ہے جو خود حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ( دین حق تھا جس میں دل جیتنے کی ویسی ہی طاقت تھی جتنی دماغ جیتنے کی طاقت تھی۔جو بیک وقت دلوں اور دماغوں کو مطمئن کرنے والا ( دین حق ) تھا۔جس کے اندر غیر معمولی رحمت تھی اور تمام بنی نوع انسان کی طرف جو پیار سے جھکنے والا ( دین حق ) تھا یہ وہی ( دین حق ) ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آج دوبارہ زندہ کر کے آپ کے سامنے پیش کیا اور آج آپ اس کے نمائندہ ہیں۔پس اس پہلو سے یہ حسین ( دین حق انسان کے کردار میں جو پاک تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اور جو حسین تبدیلیاں پیدا کرتا ہے اس کی تصویر ہمارے خدام کو دکھانی ہے کیونکہ یہ ( دین حق ) محض تصورات کی دنیا میں رہتے ہوئے ان لوگوں کو اپنے حسن کا گرویدہ نہیں کر سکتا۔یہ دین حق ) زندہ وجودوں کی صورت میں دکھائی دینا چاہیے۔ایسی تنظیمات کی شکل میں اس ( دین حق ) کو ان سے رابطہ کرنا ہوگا ، جیسی خدام الاحمدیہ کی تنظیمات ہیں۔اسے وہ آپ کی ذات میں جاری ہوتا دیکھیں گے تو پھر اس کے حسن کے گرویدہ ہوں گے۔پس قومی سطح پر وسیع لحاظ سے خدام الاحمدیہ کونو جوانوں کی دیگر تنظیمات سے رابطے کے ایسے پروگرام بنانے چاہیں کہ یہ یا ان کے نمائندے آپ کی تقریبات میں آئیں اور تقریبات کو اس مقصد کی خاطر تشکیل دیا جائے کہ آنے والے یہ سمجھیں کہ یہ نوجوان ہم سے زیادہ مطمئن زندگی گذار رہے ہیں ان نو جوانوں کو کچھ ایسی دولت مل گئی ہے کہ ان کے چہروں پر جو طمانیت ہے اس کی کوئی مثال دوسری جگہ دکھائی نہیں دیتی۔ان کے کردار میں ایک نئی شان پیدا ہو چکی ہے اور وہ شان ایسی ہے کہ جو حاصل کئے بغیر انسان کو عطا ہوا نہیں کرتی۔کئی دفعہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ ہمارے قافلے کے ساتھ جو سفر کرنے والے نو جوان ہوتے ہیں اگر ان کو کھانا نہ کھلایا گیا ہو تو ان کے چہرے پر بھوک کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ان کی آنکھیں دیکھ کر اور چہرے کا رنگ دیکھ کر میں ان سے پوچھتا ہوں کیوں ابھی تک آپ کو کسی نے کھانا نہیں دیا اور جب انہوں