مشعل راہ جلد سوم — Page 435
مشعل راه جلد سوم 435 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی بات کی بھی کہ ہم اپنے گردو پیش سے ایسا تعلق پیدا کریں جو ان کو حرکت میں لائے۔اس ضمن میں ایک تنبیہ کی بھی ضرورت ہے اور جیسا کہ میں نے مثال پیش کی تھی عمداً اس غرض سے یہ مثال چینی تھی تا کہ اس کے اندر جو تنبیہہ شامل ہے اس سے بھی میں آپ کو واقف کر دوں، کاروں میں گئیر ز کا انتظام ہوتا ہے یعنی پہلا گئیر ، دوسرا گئیر ، تیسرا کئیر ، چوتھا کئیر اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر اچانک انجن پر زیادہ بوجھ پڑ جائے تو بعض دفعہ انجن ٹوٹ جایا کرتا ہے اور اچانک بوجھ کو برداشت نہیں کر سکتا۔باوجود اس کے کہ اس کے اندر طاقت ہوتی ہے مثلاً ایک کار کے انجن میں یہ بھی طاقت ہے کہ وہ سو میل کی رفتار سے گاڑی کو چلائے یا ایک سو بیس میل یا ایک سو چالیس میل کی رفتار سے گاڑی کو چلائے لیکن جب آپ انجن کا تعلق گئیر سے کرتے ہیں تو پہلے اس گئیر سے کرتے ہیں جو دس میل سے زیادہ رفتار سے گاڑی نہیں بڑھا تا اس کے بعد چالیس میل یا پچاس میل والے گئیر سے تعلق پیدا کرتے ہیں اس سے بڑھکر پھر اس آخری گئیر سے جس پر انجن پوری قوت کو اپنے ماحول میں منتقل کر دیتا ہے۔پس ایسے موقعوں پر جہاں ایک قوت کا ایک ساکت چیز سے رابطہ قائم کرنا ہوا ایک جامد چیز سے رابطہ قائم کرنا ضروری ہوا کرتا ہے کہ حکمت اور تدبیر کے ساتھ کام کیا جائے اور تدریج کو اختیار کیا جائے ورنہ آپ کے انجن پر بداثرات پڑیں گے۔اگر اچانک مثلاً آپ ان غیر قوموں کی تنظیمات سے پورا رابطہ قائم کر لیں تو آپ میں سے بہت سے ہیں جن کے دلوں کو زنگ لگ جائیں گے، بہت سے ایسے ہیں جو اس رابطے کا Impact برداشت نہیں کر سکیں گے وہ سمجھیں گے کہ یہ تو غالب لوگ ہیں یہ تو طاقت والے لوگ ہیں یہ زیادہ مزے اٹھا رہے ہیں اور بجائے اس کے کہ گہرائی کے ساتھ ان کی لذتوں کا جائزہ لے سکیں اور یہ معلوم کر سکیں کہ ان کی لذتیں عارضی اور فانی ہیں ان کی لذتوں کے بعد سر در دیاں ہیں ، بہت سی تکلیفیں ہیں بہت سے دکھ ہیں جن میں خود بھی مبتلا ہوتے ہیں اور سوسائٹی کو بھی مبتلا کرتے ہیں آپ وقتی طور پر نوجوان ہونے کے باعث سمجھ سکتے ہیں کہ او ہو۔یہ تو ہم سے زیادہ اچھی زندگی بسر کر رے ہیں کیوں نہ خدام الاحمدیہ سے نکل کر ان لوگوں میں شامل ہو جایا جائے۔پس آپ کا انجن ان کو متحرک کرنے کی بجائے خود جامد ہو جائے گا اس لئے رابطوں میں تدریج کی ضرورت ہے اور حکمت بھی بہت ضروری ہے۔پس اس لئے میں نے افراد کو نہیں کہا کہ آپ رابطے کریں، میں نے تنظیم کو کہا ہے کہ تنظیم با قاعدہ منصوبے بنا کر اپنے غیروں سے ایسے روابط پیدا کرے کہ ان کو رفتہ رفتہ طاقت کے مطابق اپنے ساتھ جذب کریں اور (دین حق) کے پیسے کے مطابق ان کو حرکت میں لائیں۔ان بہترین صفات کو حرکت میں لائیں جو نوبل یعنی اعلیٰ پائے کی معزز صفات کہلا سکتی ہیں۔بزرگ صفات کہلاتی ہیں جن صفات کے