مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 528

مشعل راه جلد سوم 528 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی درست ہے کہ اگر کسی مجلس میں خلیفتہ امسح شامل ہوں پہلے بھی یہی رہا ہے آئندہ بھی یہی رہے گا تو ظاہر بات ہے کہ اس سے اجتماع کی حاضری بڑھ جاتی ہے لیکن اسے حاضری کو بڑھانے کا ذریعہ بنا کر سالانہ رپورٹ کا معیار بڑھانا یہ جائز نہیں۔خدام کی حاضری ہو، بجنات کی ہو یا انصار کی ہو وہ سال بھر کی کوششوں کا آئینہ دار ہونی چاہیے۔اگر تمام سال کوشش کر کے مجلس انصار اللہ میں ایک مستعدی پیدا کر دی جائے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کا ذوق شوق بڑھایا جائے اور اس طبعی جوش اور ولولے کے نتیجے میں لوگ کثرت سے اجتماعات میں شامل ہوں تو اچھی بابرکت بات ہے اور قابل تحسین ہے۔مگر یہ نہ ہو تو خلیفہ وقت کو ذریعہ بنا کر اس دن کی حاضری بڑھانا یہ کوئی نیک ، اچھی بات نہیں ہے۔اس لئے وہ سمجھیں یا نہ سمجھیں یہ بات میں اشارہ ان کی دل آزاری کئے بغیر سمجھانے کی کوشش کرتا رہا مگر وہ بات پہنچی نہیں۔اس لئے اب میں ساری دنیا کو یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک طبعی بات ہے کہ اگر کوئی شخص جو کسی بڑے علاقے سے تعلق رکھتا ہو کہ اس کی خاطر لوگ آئیں اس کے آنے پر لوگوں کا آنا ایک طبعی بات ہے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے۔تربیت کے معیار کو بڑھائیں اس لئے انصار ہوں یا لجنات ہوں یا خدام ہوں ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھیں کہ سالانہ تربیت کے معیار کو بڑھائیں یہاں تک کہ کسی ایک شخص کی خاطر نہیں بلکہ روزمرہ کی تربیت کے نتیجے میں ، دینی اغراض کی خاطر، تمام ذیلی تنظیموں کے ممبر خدا کو راضی کرنے کے لئے دینی اغراض کی خاطر ا کٹھے ہوا کریں۔یہ جو خلیفہ وقت کے ساتھ تعلق ہے یہ بھی ایک دینی غرض ہے مگر ان دونوں ہاتوں میں فرق ہے۔روز مرہ کی تربیت کے نتیجے میں جو دل سے وابستگی پیدا ہوتی ہے وہ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس بات کی محتاج نہیں رہتی کہ کون آرہا ہے اور کون نہیں آرہا۔اس وقت تو حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ہم تو بن بلائے بھی جانے کی کوشش کریں گے اور واقعہ ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ایک مصرع میں یہ کہا گیا ہے کہ ان پہ بن جائے کچھ ایسی کہ دن آئے نہ بنے بلانے کا محتاج نہ رہے انسان جب دینی مقصد کا کوئی اجتماع ہوتو اس میں ذوق وشوق سے لوگوں کا حاضر ہونا ایک دینی تقاضا ہے۔پس یہ وجہ ہے میں وضاحت کر رہا ہوں۔انہوں نے جو وعدہ کیا تھا انصار سے ان کی طرف سے عہد شکنی کوئی نہیں ہوئی ان کو اس بات پر ملزم نہ کیا جائے۔اپنی طرف سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آخر وقت تک جو ممکن تھا انہوں نے کوشش کر دیکھی مگر یہ میری مجبوری تھی جس کی وجہ سے