مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 529

مشعل راه جلد سوم 529 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ وہ کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔۔اب میں اس مضمون کی طرف آتا ہوں جو میں نے بیان کیا ہے کہ نئے سال کا تحریک جدید کا اعلان ہونا ہے۔الحمد للہ کہ تحریک جدید دفتر اول ساٹھ سال پورے کر چکا ہے اور دفتر دوم پچاس سال پورے کر چکا ہے۔دفتر سوم انتیس سال اور دفتر چہارم نو سال۔اور اب اپنے اکسٹھویں، اکانویں، تیسویں اور دسویں سال میں داخل ہوں گے۔تحریک جدید کے دفاتر کے قیام کی غرض وغایت دفتروں کا جہاں تک تعلق ہے اس سلسلے میں میں نے رپورٹوں پر نظر کر کے محسوس کیا ہے کہ رفتہ رفتہ دفاتر کی تقسیم پر عہدیداروں کی یا کام کرنے والوں کی نظر نہیں رہتی اور عمومی طور پر تحریک کے چندے کو بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر دفاتر کے قیام کی جو غرض وغایت تھی وہ اس طرح پوری نہیں ہو سکتی جب میں نے اعداد و شمار سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ دفتر چہارم نے کتنی ترقی کی ، دفتر سوم نے کتنی ترقی کی ہے، تو پتہ چلا کہ ایسا کوئی تذکرہ رپورٹوں میں موجود نہیں تھا۔پھر فیکس کے ذریعے بڑی بڑی یورپ اور امریکہ وغیرہ کی جماعتوں کو تحریک کی گئی کہ آپ کے پاس اعداد و شمار ہوں گے فوراً بھجوادیں۔تو ہر جگہ سے یہ معذرت آئی کہ ہم نے الگ الگ اعداد و شمار نہیں رکھے اس لئے آئندہ سال ایسا کریں گے۔تو تحریک جدید کے تعلق میں پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ دفاتر کا انتظام تحریک جدید کے سیکرٹری کے تابع الگ الگ ذمہ دار خدمت کرنے والوں کے سپرد ہونا چاہیے تا کہ آئندہ کبھی اس بات میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔ہر تحریک جدید کا سیکرٹری اپنے ساتھ دفتر اول کا ایک نائب لگائے ، ایک دفتر دوم کا، ایک سوم کا اور ایک چہارم کا۔تاکہ ان کا الگ الگ ریکارڈ رکھے اور ان کا مقابلہ کرے اور اس طرح آپس کے مقابلے کی وجہ سے ویسے بھی عمومی معیار خدا کے فضل سے بہتر ہوگا۔یہ دفاتر کی تقسیم دراصل بعض عمروں کے بدلنے کے نتیجے میں جو ایک قسم کے نسلی گروہ بنتے ہیں، ایک نسل سے تعلق رکھنے والے گروہ، ان کے پیش نظر کی گئی۔دفتر اول کو جب دس سال گزر گئے تو حضرت مصلح موعود نے یہ تجویز فرمائی کہ دفتر اول کا الگ رجسٹر رکھ کر اس کا حساب الگ کر دیا جائے۔اور ایک دفتر دوم قائم کیا جائے جس میں نئے مجاہدین داخل کئے جائیں۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اس حصے کو بھی قربانی کی توفیق ملے گی جو پہلے غافل رہا ہے اور دفتر اول کی قربانیوں کے سائے