مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 491 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 491

491 ارشادات حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ایسے پیغامبر بن کر یہاں رہنا ہو گا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں ، دوسروں کے نگران بننے سے پہلے اپنے نگران بننے کی اہلیت رکھتے ہوں ، اپنے گھروں کی نگرانی کرنے والے ہوں، اپنے اہل وعیال کی نگرانی کرنے والے ہوں ، اپنے بچوں کی نگرانی کرنے والے ہوں، جو کچھ اُن کے سپرد ہے اس کے نگران رہیں لیکن سب سے بڑھ کر اپنی ذات کے نگران ہوں کیونکہ یہ سفر ذات سے شروع ہوتا ہے، یہ سفر ذات میں ڈوب کر شروع ہوتا ہے۔تنقید کا سفر اختیار کر نیوالے دو قسم کے لوگ دنیا میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک وہ جو تنقید کا سفر باہر کی دنیا سے شروع کرتے ہیں۔وہ اپنی ذات سے دور اور دور تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ان کی نظریں اپنی ذات کے متعلق بالکل اندھی ہو جاتی ہیں۔وہ ایک ایسے سفر پر روانہ ہوتے ہیں جہاں سے کوئی واپسی نہیں۔وہ دنیا کو تنقید کی نظر سے دیکھتے چلے جاتے ہیں اور ان کا دائرہ تنقید بڑھتا اور پھیلتا چلا جاتا ہے اور پھر اونچا ہوتا چلا جاتا ہے۔وہ ان پر بھی تنقید کرتے ہیں جو خدا کے نمائندے بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنی ذات سے پوری طرح غافل ہو جاتے ہیں۔اپنے وجود کو بھلا دیتے ہیں۔یہی وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے اس حسین انداز میں بیان فرمایا ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ نَسُوا اللَّهَ فَانسَهُمْ اَنفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الفَسِقُونَO ( سورة الحشر : 20,19) یعنی اے مومنو! اللہ کا تقوی اختیار کرو اور چاہیے کہ ہر جان اس بات پر نظر رکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے اور تم سب اللہ کا تقوی اختیار کرو۔اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا اور خدا نے ایسا کیا کہ وہ اپنی ذات کو بھلا بیٹھے۔یہی وہ لوگ ہیں جو فاسق ہو جاتے ہیں۔پس جو باہر کی دنیا پر تنقید کے سفر پر روانہ ہوتے ہیں وہ اپنی ذات کو اپنے گھر میں چھوڑ جاتے ہیں اور ان کی ذات کا کوئی والی وارث نہیں رہتا۔بیرونی تنقید جو اُن پر ہوتی ہے وہ اسے ناجائز سمجھتے ہیں اور اسے دھکے دیتے ہیں اور کبھی بھی قبولیت کی نگاہ سے اُسے نہیں دیکھتے۔پس یہ ایسا ہی ہے کہ ایک شخص اپنے گھر کا