مشعل راہ جلد سوم — Page 492
492 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم اثاثہ تو بغیر حفاظت کے اپنے گھر میں چھوڑ جائے اور خود سفر پر نکل کھڑا ہوتا کہ دنیا کے اثاثوں کی حفاظت کرے اور وہ حفاظت کی سرے سے اہلیت ہی نہ رکھتا ہو۔برخلاف اس کے ایک وہ ہے جو باطن کا سفر اختیار کرتا ہے۔وہ اپنے وجود کی تنقید پر متوجہ ہوتا ہے اور اپنے نفس میں ڈوبتا چلا جاتا ہے اور معلوم کرتا ہے کہ یہ سفر بھی لا متناہی سفر ہے۔اس کا اپنا وہ سجود جو اُ سے اپنی ذات میں ایک کامل وجود دکھائی دیا کرتا تھا، وہ وجود جو اپنی ذات میں اسے سب سے اچھا نظر آتا تھا، وہ رفتہ رفتہ کمزوریوں اور بیماریوں سے داغ داغ دکھائی دینے لگتا ہے۔اسے نظر آنے لگتا ہے کہ اس میں کئی قسم کے کیڑے پرورش پارہے ہیں۔وہ دیکھتا ہے اور دن بدن اس کی طبیعت زیادہ تکلیف محسوس کرتی ہے اور دن بدن وہ زیادہ اپنے آپ کو بے کس، بے معنی، بے حقیقت اور گناہوں میں ملوث پاتا ہے۔وہ جتنا بڑا عارف ہوتا چلا جاتا ہے اتنا زیادہ اس کا یہ عرفان بڑھتا چلا جاتا ہے کہ میں کمزور ہوں اور ابھی بہت گنجائش ہے اصلاح کی۔یہ وہ سفر ہے جس سفر سے لوگ واپس نہیں آیا کرتے ، مگر یہ وہ سفر ہے کہ جو اس سفر پر نکلتا ہے اپنی ذات میں ڈوبتا ہوا خدا تک جا پہنچتا ہے اور جو خدا تک پہنچ جاتا ہے اسے پھر خدا خود واپس کیا کرتا ہے اسے خدا خود دنیا سے روشناس کراتا ہے۔دنیا کا امام بننے سے پہلے اپنے نفس کا امام بننا ہوگا دنیا میں جتنے انبیاء پیدا ہوئے ان میں سے بلا استثناء ہر ایک نے پہلے یہ سفر اختیار کیا تھا۔ہر نبی اپنی ذات میں ڈوبا تھا اور اپنی ذات میں ڈوب کر وہ کائنات کی بے حقیقتی کی طرف متوجہ ہوا تھا اور جوں جوں وہ اپنے اندرونی نقائص دور کرتا چلا گیا اپنی کمزوریوں پر اطلاع پا تا چلا گیا اور ان کی اصلاح کرتا چلا گیا وہ خدا کے قریب تر ہوتا چلا گیا کیونکہ قرب خدا کے بجز اس کے اور کیا معنی ہیں۔خدا پاک ہے اور خدا کی وہ صفات جو ابھی آپ نے تلاوت میں سنی تھیں ان پر غور کر کے دیکھیں کہ کتنی بلند صفات ہیں۔جب تک وہ صفات ہم اپنا ئیں گے نہیں ہم خدا کے قریب کیسے ہوں گے۔پس وہ لوگ جو قرب الہی کی دعا مانگتے ہیں، جو یہ کہتے ہیں۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مَنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ان کو دنیا کا امام بننے سے پہلے اپنے نفس کا امام بننا ہوگا۔اپنی کمزوریوں پر اطلاع پا کر اور ان کی حقیقت سے شناسائی حاصل کر کے ان کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا ہوگا اور جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں یہ سفر حقیقت میں لامتناہی ہے کیونکہ اس کی آخری منزل خدا تعالیٰ ہے اور بدرجہ کمال کوئی خدا کو حاصل نہیں کر