مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 406

مشعل راه جلد سوم 406 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی اہمیت اس کے علاوہ تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے اور دینی تعلیم میں وسعت پیدا کرنے کا ایک طریق یہ ہے کہ مرکزی اخبار و رسائل کا مطالعہ کرتار ہے۔بدقسمتی سے اس وقت بعض ممالک ایسے ہیں جہاں مقامی اخبار نہیں ہیں اور بعض زبانیں ایسی ہیں جن میں مقامی اخبار نہیں ہیں۔لیکن ابھی ہمارے پاس وقت ہے اور گزشتہ چند سالوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں میں اپنے اپنے اخبار جاری کرنے کے رجحان بڑھ چکے ہیں۔تو ساری جماعت کی انتظامیہ کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جب آئندہ دو تین سال میں یہ بچے سمجھنے کے لائق ہو جائیں یا چار پانچ سال تک سمجھ لیں تو اس وقت واقفین نو کے لئے بعض مستقل پروگرام ، بعض مستقل فیچر آپ کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتے رہنے چاہئیں کہ وقف نو کیا ہے؟ ہم ان سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ اور بجائے اس کے کہ اکٹھا ایک دفعہ ایسا پروگرام دے دیا جائے جو کچھ عرصہ کے بعد بھول جائے ، یہ اخبارات چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تربیتی پروگرام پیش کیا کریں اور جب ایک حصہ رائج ہو جائے تو پھر دوسرے کی طرف متوجہ ہوں، پھر تیسرے کی طرف متوجہ ہوں۔واقفین بچوں کی علمی بنیاد وسیع ہونی چاہیے۔عام طور پر دینی علماء میں یہی کمزوری دکھائی دیتی ہے کہ دین کے علم کے لحاظ سے تو اُن کا علم کافی وسیع اور گہرا بھی ہوتا ہے لیکن دین کے دائرہ سے باہر دیگر دنیا کے دائروں میں وہ بالکل لاعلم ہوتے ہیں۔علم کی اس کمی نے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔وہ وجوہات جو مذاہب کے زوال کا موجب بنتی ہیں اُن میں سے یہ ایک بہت ہی اہم وجہ ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے اور علم کی وسیع بنیاد پر قائم دینی علم کو فروغ دینا چاہیے۔یعنی پہلے بنیاد عام دنیا وی علم کی وسیع ہو۔پھر اُس پر دینی علم کا پیوند لگے تو بہت ہی خوبصورت اور بابرکت ایک شجرہ طیبہ پیدا ہوسکتا ہے۔تو اس لحاظ سے بچپن ہی سے ان واقفین بچوں کو جنرل نالج بڑھانے کی طرف متوجہ کرنا چاہیے۔آپ خود متوجہ ہوں تو ان کا علم آپ ہی آپ بڑھے گا۔یعنی ماں باپ متوجہ ہوں اور بچوں کے لئے ایسے رسائل، ایسے اخبارات لگوایا کریں ایسی کتابیں پڑھنے کی ان کو عادت ڈالیں جس کے نتیجہ میں ان کا علم وسیع ہو اور جب وہ سکول میں جائیں تو ایسے مضامین کا انتخاب ہو جس سے سائنس کے متعلق بھی کچھ واقفیت ہو۔عام دنیا کے جو آرٹس کے سیکولر مضامین ہیں مثلاً معیشت، اقتصادیات، فلسفه، نفسیات،حساب، تجارت وغیرہ ایسے جتنے بھی متفرق امور ہیں ان سب میں سے کچھ نہ کچھ علم بچے کو ضرور ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں پڑھنے کی عادت ڈالنی