مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 405 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 405

405 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم غنا کے متعلق میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔قناعت کے بعد پھر غنا کا مقام آتا ہے اور غنا کے نتیجہ میں جہاں ایک طرف امیر سے حسد پیدا نہیں ہوتا وہاں غریب سے شفقت ضرور پیدا ہوتی ہے۔غنا کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ غریب کی ضرورت سے انسان غنی ہو جائے۔انسان اپنی ضرورت سے غیر کی ضرورت کی خاطر غنی ہوتا ہے۔اسلامی غنا میں یہ ایک خاص پہلو ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس لئے واقفین بچے ایسے ہونے چاہئیں جو غریب کی تکلیف سے غنی نہ بنیں لیکن امیر کی امارت سے غنی ہو جا ئیں اور کسی کو اچھا دیکھ کر انہیں تکلیف نہ پہنچے لیکن کسی کو تکلیف میں دیکھ کر وہ ضرور تکلیف محسوس کریں۔جہاں تک ان کی تعلیم کا تعلق ہے جامعہ کی تعلیم کا زمانہ تو بعد میں آئے گالیکن ابتداء ہی سے ایسے بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم کی طرف سنجیدگی سے متوجہ کرنا چاہیے اور اس سلسلہ میں انشاء اللہ یقینا نظامِ جماعت بھی ضرور کچھ پروگرام بنائے گا۔ایسی صورت میں والدین نظام جماعت سے رابطہ رکھیں اور جب بچے اس عمر میں پہنچیں کہ جہاں وہ قرآن کریم اور دینی باتیں پڑھنے کے لائق ہو سکیں تو اپنے علاقے کے نظام سے یا براہِ راست مرکز کو لکھ کر ان سے معلوم کریں کہ اب ہم کس طرح ان کو اعلیٰ درجہ کی قرآن خوانی سکھا سکتے ہیں اور پھر قرآن کے مطالب سکھا سکتے ہیں۔کیونکہ قاری دو قسم کے ہوا کرتے ہیں۔ایک تو وہ جو ابھی تلاوت کرتے ہیں اور ان کی آواز میں ایک کشش پائی جاتی ہے اور تجوید کے لحاظ سے وہ درست ادائیگی کرتے ہیں۔لیکن محض پرکشش آواز سے تلاوت میں جان نہیں پڑا کرتی۔ایسے قاری اگر قرآن کریم کے معنی نہ جانتے ہوں تو وہ تلاوت کا بت تو بنا دیتے ہیں، تلاوت کے زندہ پیکر نہیں بنا سکتے۔لیکن وہ قاری جو سمجھ کر تلاوت کرتے ہیں اور تلاوت کے اس مضمون کے نتیجہ میں ان کے دل پگھل رہے ہوتے ہیں، ان کے دل میں خدا کی محبت کے جذبات اُٹھ رہے ہوتے ہیں، ان کی تلاوت میں ایک ایسی بات پیدا ہو جاتی ہے جو اصل روح ہے تلاوت کی۔تو ایسے گھروں میں جہاں واقفین زندگی ہیں وہاں تلاوت کے اس پہلو پر بہت زور دینا چاہیے۔خواہ تھوڑا پڑھایا جائے لیکن ترجمہ کے ساتھ - مطالب کے بیان کے ساتھ پڑھایا جائے اور بچے کو یہ عادت ڈالی جائے کہ جو کچھ بھی وہ تلاوت کرتا ہے وہ سمجھ کر کرتا ہے۔ایک تو روز مرہ کی صبح کی تلاوت ہے۔اس میں تو ہو سکتا ہے کہ بغیر سمجھ کے بھی ایک لمبے عرصہ تک آپ کو اسے قرآن کریم پڑھانا ہی ہوگا لیکن ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ سکھانے اور مطالب کی طرف متوجہ کرنے کا پروگرام بھی جاری رہنا چاہیے نماز کی پابندی اور نماز کے جو لوازمات ہیں ان کے متعلق بچپن سے تعلیم دینا اور سکھانا، یہ بھی جامعہ میں آکر سیکھنے والی باتیں نہیں۔اس سے بہت پہلے گھروں میں بچوں کو اپنے ماں باپ کی تربیت کے نیچے یہ باتیں آجانی چاہئیں۔