مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 356

356 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم دلائیں کہ مسلمانوں کا یہ حق ان کو دیا جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یکم جنوری 1896ءکود واشتہا رشائع فرمائے اور ایک اشتہار بعد میں شائع فرمایا۔جس میں تمام مسلمانان ہند کو بھی متوجہ فرمایا گیا اور حکومت انگلستان کو بھی متوجہ فرمایا کہ بحیثیت حاکم ان کا یہ اخلاقی فرض ہے کہ مسلمانوں کے جمعہ کے تقدس کو قائم کریں اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی دعائیں حاصل کریں ان کا شکر یہ حاصل کریں۔آپ نے تاریخی لحاظ سے بتایا کہ کس طرح تمام مسلمان ممالک میں اس دن کا تقدس قائم تھا اور خود ہندوستان میں بھی ایک لمبے عرصے تک قائم رہا۔لیکن انگریزی حکومت کے آنے کے بعد رفتہ رفتہ جمعہ کی تعطیل کی بجائے اتوار کی تعطیل شروع ہو گئی۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اتوار کے دن آپ بے شک چھٹی منائیں اور ہندوؤں کو بھی چھٹی دیں لیکن مسلمانوں کو اس بنیادی حق سے آپ کیسے محروم کر سکتے ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تحریک فرمائی تھی اس کے بعد حضرت خلیفۃ امسیح الاول ( نوراللہ مرقدہ) نے 1911 ء میں دوبارہ اس تحریک کو چلایا اور پہلی مرتبہ حکومت برطانیہ نے 1913ء میں دوبارہ جمعہ کی رخصت کو ضروری طور پر منظور کیا خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ پھر رفتہ رفتہ یہ رجحان بڑھنا شروع ہوا بالآخر انگریزی حکومت کی طرف سے بھی مسلمانوں کے لئے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے حق کو تسلیم کر لیا گیا گو ہر جگہ حکومت کی طرف سے رخصت کے دن کے طور پر قبول نہیں کیا گیا۔پاکستان بننے کے بعد بھی ایک لمبے عرصہ تک اتوار ہی کو چھٹی ہوتی تھی جمعہ کو نہیں ہوتی تھی۔یہ تو ابھی چند سال پہلے کی بات ہے کہ حکومت پاکستان نے جمعہ کی رخصت منظور کی ہے۔حضرت مسیح موعود کی جمعۃ المبارک کی تحریک کو از سر نو شروع کرنے کی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے 1896ء میں یہ تحریک شروع فرمائی تھی اور عجیب حسن اتفاق ہے کہ وہ بھی یکم جنوری کا دن تھا یعنی یکم جنوری 1896ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ تحریک جاری فرمائی اور بغیر اس کے کہ مجھے علم ہوتا کہ یکم جنوری کو ایسا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصرف ہی ایسا ہوا ہے کہ آج اللہ تعالیٰ ہی مجھے یہ توفیق عطا فرما رہا ہے کہ یکم جنوری 1988ء کو میں اس تحریک کو از سر نو شروع کرنے کے لئے جماعت کو نصیحت کرتا ہوں۔دو طرح سے آپ کو یہ تحریک چلانی ہوگی اول جیسا کہ نظام جماعت آپ کے سامنے پروگرام رکھے گا آپ اخباروں میں خطوں کے ذریعہ، وفود کے ذریعہ حکومت کے افسروں سے مل کر ، طلبہ کی خاطر حقوق لینے کے لئے مختلف سکولوں میں ان کی انتظامیہ سے مل کر اور دیگر جو بھی