مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 350

مشعل راه جلد سوم 350 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے اپنے رب سے عرض کیا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا ہے۔پس جو قرآن کو چھوڑے گا وہ حمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی چھوڑے گا اور قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خبر واضح طور پر مستقبل کی خبر تھی۔قرآن کو چھوڑنا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ نا ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔پس سورۃ جمعہ کی اس آیت کا بھی مستقبل سے تعلق ہے اور اس میں ایک نہایت ہی خطرناک فتنے کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔فرمایا گیا ہے کہ ایسے دن آنے والے ہیں جب کہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ دیں گے اور تجارتوں کی طرف ایسے مائل ہو جائیں گے کہ جمعہ کے دن بھی ان کو جمعہ کی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملے گی یہاں کلام کا ایک بڑا ہی لطیف رنگ ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ جب خدا کا رسول انہیں جمعہ کی نماز کی طرف بلاتا ہے کیونکہ خدا کا رسول تو جس طرف بھی بلاتا تھا مسلمان دوڑے چلے آتے تھے۔یہاں لفظ نُودِی رکھ دیا گیا جس کا مطلب ہے جب بھی بلایا جاتا ہے یعنی مؤذن کوئی بھی ہو اس سے بحث نہیں جب بھی تمہیں بلایا جائے تمہارے کانوں میں یہ آواز پڑے کہ جمعہ کا دن آگیا ہے اور جمعہ کے دن تمہیں نماز کے لئے اکٹھا ہونا چاہیے۔قطع نظر اس کے کہ بلانے والا کون ہے تمہیں خدا کے ذکر کے لئے اکٹھے ہو جانا چاہیے۔چنانچہ یہ ندا سارے زمانوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ کون بلا رہا ہے کون جمعہ پڑھا رہا ہے کس کی امامت میں آج نماز ہوگی چونکہ جمعہ کا دن خدا کی یاد کا دن ہے خدا کی خاطر ا کٹھے ہونا ہے اس لئے آواز دینے والے کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔جب بھی تمہیں جمعہ کی نماز کے لئے آواز دی جائے تمہیں اس پر لبیک کہنا چاہیے۔لاہور کے ایک دورہ کا ذکر چنانچہ مجھے یاد ہے میں نے اس وقت لاہور میں اس پہلو سے بھی جماعت کو توجہ دلائی۔میں نے ان کو کہا کہ آپ یہ نہ دیکھا کریں کہ جمعہ کے دن نماز پڑھانے کے لئے کون آرہا ہے یہ دیکھا کریں کہ جمعہ کی نماز پڑھنے اور اس کی برکتیں حاصل کرنے کے لئے جانا ہے۔میں غالباً خدام الاحمدیہ کے صدر کی حیثیت سے وہاں گیا تھا یا کسی اور حیثیت سے مجھے یاد نہیں رہا لیکن اس روز جمعہ میں حاضری عام حاضری کی نسبت زیادہ تھی۔چنانچہ مجھے یہ بتایا گیا تھا کہ آج اتنی حاضری ہے۔تو اس کے نتیجہ میں میں نے جو تجزیہ کیا وہ یہ تھا کہ اس غیر معمولی حاضری کی وجہ یا تو یہ ہے کہ ایسے علاقے کے دوست تشریف لائے ہوں گے جو دوسری ( بیوت