مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 349

مشعل راه جلد سوم 349 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فدائیت کے نظار میں نے سالہا سال پہلے لاہور میں جمعہ کے وقت اس مضمون کی طرف توجہ دلائی تھی اور بتایا تھا کہ میرا دل اس بات کو تسلیم نہیں کرتا نہ تاریخ اسلام اس بات پر گواہی دیتی ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تربیت یافتہ مسلمان عادة نعوذ بالله مِنْ ذلِك آپ کو جمعہ کے دن اکیلا چھوڑ کر کھیل تماشے کی طرف دوڑ جاتے ہوں۔احادیث میں جو روایات ملتی ہیں ان سے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اشارہ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک دعوت پر لوگ ہر دوسرے کام کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جوق در جوق دوڑے آیا کرتے تھے یہاں تک کہ نہایت ہی خطرناک وقتوں میں بھی انہوں نے اپنی اس اطاعت کی روح کو زندہ رکھا اور اپنے جسموں کے مرنے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔چنانچہ جنگ حنین کے وقت ہم یہ نظارہ دیکھتے ہیں کہ ایک موقع پر جب کہ لشکر اسلام کے پاؤں اکھڑ گئے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد سوائے چند گنتی کے صحابہ رضی اللہ عنھم کے اور کوئی میدان میں کھڑا نہ رہ سکا اس وقت مختلف صحابہ رضی اللہ نظم نے آوازیں دے کر مسلمانوں کو بلانا شروع کیا لیکن وقت ایسا تھا ایسا زور کا ریلا پڑا تھا کہ اکھڑے ہوئے پاؤں جمتے نہیں تھے اور دوڑتے ہوئے سپاہی واپس نہیں آسکتے تھے اس وقت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ساتھ کھڑے ہوئے غلاموں کو تاکید فرمائی کہ یہ اعلان کرتے چلے جاؤ کہ خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں اپنی طرف بلاتا ہے۔صحابہ رضی اللہ عنھم بیان کرتے ہیں کہ جب ہمارے کانوں میں یہ آواز پڑی تو کوئی اور ہوش نہیں رہا سوائے اس کے کہ ہر قیمت پر ہم نے واپس جانا ہے۔چنانچہ بعض صحابہ روایت کرتے ہیں کہ ہماری وہ سواریاں جو اتنی منہ زور ہو چکی تھیں ایسی بھگدڑ پڑی ہوئی تھی کہ سواریوں کو بھی ہوش نہیں رہی تھی۔ہم نے اپنی تلوار میں نکال کر ان کی گردنیں کاٹ دیں اور پھر پیدل حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دوڑے پڑے جس جماعت کی قربانی کا یہ نظارہ ہو اور اطاعت کا یہ جذ بہ ہو اس کے متعلق یہ تصور کر لینا کہ جمعہ کے دن کھیل تماشے کی خاطر یا تجارت کی خاطر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اکیلا چھوڑ کر دوڑ جاتے ہوں یہ بات میری بات سمجھ میں آنے والی نہیں ہے، میرے دل میں یہ بات بچتی نہیں۔قرآن کریم کی ایک اور آیت بھی اس ترجمے کی تصدیق کرتی ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا القُرْآنَ مَهْجُوراً (الفرقان آیت:31) که رسول