مشعل راہ جلد سوم — Page 312
مشعل راه جلد سوم 312 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی یورپ میں انقلاب لانے کا دعویٰ وہ یہ صورت حال ہے۔چند گنتی کے احمدی یہ دعویٰ لے کر اٹھے ہیں کہ ہم ان قوموں کو اطمینان بخشیں گے۔ہم ان کے لئے دائمی سکینت لے کر آئیں گے۔ہم ان کی طمانیت کے سامان لے کر آئے ہیں اور وہ سارے خلاء جوان کی فطرت میں پیدا ہو کر ان کے سینوں کو ویرانے بنارہے ہیں ان سب خلاؤں کو نہایت ہی حسین دلکش بہاروں سے ہم نے بھرنا ہے۔یہ دعویٰ لے کر جماعت احمدیہ کے چند نو جوان، چند بوڑھے چند عورتیں ، چند بچے ان ملکوں میں ایک نیا روحانی انقلاب پیدا کرنے میں کوشاں ہیں لیکن جیسا کہ میں نے آپ کو بیان کیا ہے۔محض یہ دعوی کسی کام نہیں آئے گا۔کیونکہ دعوؤں سے یہ لوگ تھک چکے ہیں۔بیزار ہو چکے ہیں۔ان کو عملاً ایک تسکین بخش نظریئے کی نہیں بلکہ ایک تسکین بخش نمونے کی ضرورت ہے اس لئے ہر وہ احمدی جو داعی الی اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا اور کوشش کرتا ہے کہ نظریات کی دنیا میں ان کو مطمئن کرائے کہ ہمارا دین بہتر ہے۔ان کا مذہب ہمارے مذہب کے مقابلہ میں ان کے لئے کم نفع بخش ہے۔بسا اوقات ایسا احمدی سالہا سال تک کوشش کرتا چلا جاتا ہے۔اور اس کو کوئی پھل نہیں ملتا۔کوئی شخص بھی اس کے مضبوط دلائل کے سننے کے نتیجہ میں ان سے مطمئن ہو کر احمدیت قبول نہیں کرتا۔اور پھر یہ داعی الی اللہ مجھے شکوہ کے خط لکھتا ہے۔شکوہ کے نہیں تو شکایت کے کہہ لیں۔کہ ہم کیا کریں؟ ہم پوری کوشش کرتے ہیں دلائل سے اپنے مد مقابل کو ہر پہلو سے شکست دے دیتے ہیں۔لیکن وہ ہمارے دین کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتا۔اس کا کیا حل ہے؟ اپنے دعوئی کے سامنے اپنے عمل کا سرخم کریں میں انہیں آج یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اپنے دعوئی کے سامنے اپنے عمل کا سر تو خم کریں۔اپنے دعویٰ کو اپنے اعمال میں تو جاری کریں۔خود ان دعاوی کے نتیجہ میں اپنے دل کیلئے تو تسکین کا سامان پیدا کریں نفس مطمئنہ بنیں۔وہ نفس جو محض نظریوں پر اطمینان نہیں پاتا بلکہ نظریوں کو اپنے اعمال میں ڈھال کر ان کی صداقت کو پر کچھ کر عملاً ایک جنت کی زندگی بسر کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ تبدیلی اگر آپ اپنے اندر پیدا کرلیں تو پھر آپ کے دعاوی میں ایک غیر معمولی طاقت پیدا ہو جائے گی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ان کو خدا چاہیے۔لیکن اس راہ میں ان کے لئے مشکل یہ ہے کہ جس خدا کے تصور سے جس خدا پر ایمان لا کر انہوں نے زندگی کا سفر