مشعل راہ جلد سوم — Page 311
مشعل راه جلد سوم 311 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی یورپین معاشرے کے دُکھ روز بروز جونئی زندگی کی دلچسپیوں اور مشاغل کی طرف توجہ پیدا ہورہی ہے۔نئے نئے ناچ گانوں کی قسمیں، نئی لذت یابی کے سامان، پھر تمدن اور اقدار کے خلاف بغاوت، اپنی روایات کے خلاف بغاوت ، اپنے لباس کی طرز میں بغاوت، اپنے ہر رجحان میں ایک باغیانہ طرز کو اختیار کرنا، اپنے سر کے بالوں کے حلئے بگاڑ دینے ، اچھے بھلے لباس کو تار تار کر کے اس طرح پہننا کہ گویا پھٹا ہو الباس ہی ان کی نمایاں شان کے مطابق ہے اور اچھا لباس ان کی شان گرانے والا ہو گا۔بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی باتیں پاگل پن کی باتیں نظر آتی ہیں لیکن فی الحقیقت ان کے نیچے ان کے اندر ایک بہت گہر انا سور ہے جو رس رہا ہے۔ایک بہت بڑا دکھ ہے ان کے اندر، ایک بہت بڑا دکھ ہے جس کی علامتوں کے طور پر ان سے یہ حرکتیں سرزد ہورہی ہیں۔ان کی بھاری اکثریت آج اپنے ماضی سے پوری طرح غیر مطمئن ہو چکی ہے۔اپنے ماضی پر انہیں کوئی اعتماد نہیں۔اور کوئی یقین نہیں رہا۔اور ایک بھیانک مستقبل ہے جو غیر یقینی مستقبل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس طرح گھورتا ہے جس طرح کوئی بلا کسی پر جھپٹنے کے لئے اس کو گھور رہی ہوتی ہے۔خوفناک ہتھیار اور ایسے خوفناک ہتھیار جو اگر تمام کے تمام اس دنیا میں استعمال ہوں تو دنیا کی بھاری اکثریت کو کلیۂ صفحہ ہستی سے مٹا ڈالیں۔بڑے بڑے ممالک کو رہائش کے قابل نہ رہنے دہیں۔صدیوں وہاں ویرانیاں بسیں اور آبادیوں کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔ایسے خطرناک ہتھیار یہ خود ایجاد کر چکے ہیں۔اور جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی لیڈرشپ اخلاقی قدروں کے لحاظ سے اتنی مضبوط نہیں ہے کہ ان ہتھیاروں کے معاملے میں ان پر اعتماد کیا جا سکے۔وہ جانتے ہیں کہ کسی وقت بھی کوئی غیر ذمہ دار لیڈر ایسی حرکت کر سکتا ہے۔کہ اس کے نتیجہ میں ان ہولناک ایٹمی ہتھیاروں کی لڑائی شروع ہو جائے۔پس یہ دو بلاؤں کے درمیان پس رہے ہیں ایک ماضی سے بے اطمینانی اپنی ہر روایت سے بے اطمینانی اور ایک مستقبل پر عدم اعتماد اور یہ یقین کہ ہماری کوئی منزل نہیں اور ہمارا کوئی رخ نہیں۔ان دونوں مصیبتوں کے درمیان گھر کر ان کی فطرت نے ایک بغاوت کی ہے۔اس بغاوت کا اظہار اس نئی طرز کے ناچ گانے ، نئی طرز کے لباس نئی طرز کے انداز میں ہو رہا ہے جس کی ہر ہر ادا ماضی سے بغاوت کا اعلان کر رہی ہے اور مستقبل پر بے اطمینانی کا اظہار کر رہی ہے۔