مشعل راہ جلد سوم — Page 313
313 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم شروع کیا تھا وہ خدا ایک فرسودہ خیالی خدا بن چکا ہے۔ایک کہانی بن گئی ہے۔عملاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا ان کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔اس لئے آپ جب خدا کا تصور لے کر ان کے پاس آتے ہیں۔تو خواہ یہ الفاظ میں آپ سے کہیں یا نہ کہیں۔لیکن ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ ہاں ہم نے دیکھے ہیں خداؤں والے۔پہلے بھی سالہا سال صدیوں تک خدا والوں نے ہم پر حکومتیں کی ہیں اور خدا کے نام پر ہمیں ہزار قسم کے دھوکوں میں مبتلا رکھا ہے۔آج اس خدا پر ایمان لانے کے نتیجہ میں یا ان خداؤں کی پیروی کے نتیجہ میں ہم اس حال کو پہنچے ہیں کہ دنیا کی تمام ترقیات کے باوجود ہما را قلب ، قلب مطمئنہ نہ بن سکا۔ہمارے دل کو سکون حاصل نہ ہو سکا۔اس لئے تم کس خدا کی بات کرنے آئے ہو۔کون سا خد ا لے کر ہمارے پاس آئے ہو۔یہ وہ چیلینج ہے جو آپ کے سامنے مد مقابل بن کر کھڑا ہے اور بظاہر ہماری طاقت کے مقابل پر اس چیلنج کی طاقت بہت بڑی ہے اور بہت وسیع ہے اور بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیلینج ہمارے سارے رستے روک کر کھڑا ہے۔اہل یورپ کا چیلنج اس لئے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس طرح اس چیلنج کو کامیابی کے ساتھ قبول کریں؟ اور اس پر غالب آئیں۔اس کا یہی جواب ہے جو میں پہلے بھی دے رہا ہوں۔اب پھر اس پر مزید زور دینا چاہتا ہوں اگر آپ اس دعوئی میں بچے ہیں کہ اس کائنات کا رحمان و رحیم رب مالک خدا وہی خدا ہے جسے آپ اس دنیا میں متعارف کروانا چاہتے ہیں تو پھر اس (حقیقی) خدا کو ایک فرضی وجود کے طور پر پیش نہ کریں۔بلکہ ایک ایسے وجود کے طور پر پیش کریں جو آپ کی ذات میں اتر آیا ہو۔جب تک آپ خدا والے بن کر نہیں دکھاتے اس وقت تک آپ کی بات پر کوئی اعتماد نہیں کرے گا۔اور خدا والے بننے کے لئے عملاً خدا کی صفات کو اپنی ذات میں جاری کرنا پڑتا ہے۔یہ تو ممکن نہیں کہ کسی انسان سے بدبو کے بھبھا کے اٹھ رہے ہوں اور دعوئی یہ کرے کہ میں عطر بنا تا ہوں اور عطر کی دکان سے باہر آرہا ہوں۔اگر کوئی عطر بنانے کا دعویدار ہے تو کم از کم اس کے کپڑوں سے اس کی لمس سے خوشبو تو اٹھے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دعوئی تو عطر بنانے کا ہو اور منہ کالا اور کپڑے گندے اور بدن سے سخت بد بو اٹھ رہی ہو۔اس لئے کوئی اس دعویدار کے دعوی کو قبول نہیں کرے گا۔خدا تعالیٰ تو تمام خوشبوؤں کا منبع ہے۔خدا تو ہر نور کا سر چشمہ ہے۔اگر خدا سے تعلق کا دعویٰ رکھنے والے لوگ واقعی اپنے دعوئی میں بچے ہوں تو ان کے جسم میں نور کے نشان ظاہر ہونے چاہئیں اور یہی وہ دعوی ہے جو قرآن کریم کرتا ہے۔فرماتا ہے نُورُ هُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمُ کہ جب مومن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں خدا