مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 298 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 298

مشعل راه جلد سوم 298 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی چھوٹے بچوں کو کسی نظام کے سپرد نہ کرنا حکمت پر مبنی ہے پس اس پہلو سے بھی دیکھا جائے تو سات سال تک کی عمر کے بچے کی اہمیت ان لوگوں کے ذہن میں بھی واضح ہے لیکن ( دین حق ) اس کی اجازت نہیں دیتا کہ چھوٹے بچوں کو کسی نظام کے سپرد کر دیا جائے۔اور وہ بچوں کو کلیۂ اپنالے۔ہاں ( دین حق ) ماں باپ پر ذمہ داریاں بڑھا تا چلا جاتا ہے اور ان کو بار بار توجہ دلاتا جاتا ہے کہ چھوٹے بچوں کی تربیت کا خیال رکھا جائے۔کیونکہ دین حق ) کا ایک عائلی نظام ہے اور اس عائلی نظام کا سوشلسٹ تصور حیات سے ایک براہ راست ٹکراؤ ہے اس لئے یہ دونوں بیک وقت قائم نہیں رہ سکتے۔حضرت فضل عمر دین کی گہری فراست رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی تائید اور ہدایت کے تابع جماعت احمدیہ کے لئے اصلاح کا ایک نظام قائم فرمارہے تھے۔آپ کے اوپر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان مقبول دعاؤں کا سایہ تھا جو آپ کی پیدائش سے بھی پہلے کی گئی تھیں اور آپ کی پیدائش سے بھی ان کی مقبولیت کے متعلق آپ کو کھلے لفظوں میں مطلع فرما دیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ جس طرح کا تم بیٹا چاہتے ہو ویسا ہی بیٹا میں تمہیں عطا کروں گا۔اس لئے بنیادی معاملہ میں حضرت فضل عمر سے غلطی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔پس جیسا کہ میں بتا چکا ہوں آپ نے احمدی بچوں کو سات سال کے بعد نظام سلسلہ کے سپر د کر نے اور اس سے پہلے دخل دینے کی اجازت نہ دینے کی جو ہدایت فرمائی ہے وہ حکمت پر مبنی ہے۔یہ نظام بڑے گہرے شرعی فلسفے پر قائم کیا گیا ہے۔آئندہ کوئی خلیفہ بھی اسے تبدیل نہیں کر سکتا لیکن اس میں اگر کہیں کوئی خلاء نظر آ رہا ہے تو اس کو پُر کرنے کی طرف توجہ دلانا خلیفہ کا کام ہے کہ وہ ماں باپ کو یاد دہانی کرائے کہ تمہارے بچے ہیں تمہارے سپرد ہیں تم ان کے متعلق پوچھے جاؤ گے ان کو قرآن کریم کا یہ حکم یاد دلایا جائے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيْكُمُ نَارًا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے بیوی بچوں کو آگ کے عذاب سے بچاؤ۔پس یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ سوسائٹی ان بچوں سے زیادہ پیار رکھتی ہے زیادہ ہمدردی رکھتی ہے ان پر زیادہ حق رکھتی ہے بہ نسبت ان کے اپنے والدین کے جنہوں نے بچپن کے زمانہ میں بڑی مصیبتیں جھیل کر اور بڑی قربانیاں دے کر اپنی اولاد کو پروان چڑھایا ہوتا ہے۔والدین سے ان کے بچوں کو الگ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ان کے خون سے بنے ہیں ان کی ہڈیوں کے حصے ان میں داخل ہوتے ہیں وہ ان کے عملاً جگر گوشے ہیں ان کو والدین سے الگ نہیں کیا جاسکتا البتہ والدین کو اولاد کی تربیت کے سلسلہ میں ان کی ذمہ داریوں کی