مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 299

نعل راه جلد سوم طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے۔299 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی بچے کی ابتدائی عمر کا محنت طلب زمانہ پھر بچے کی ابتدائی عمر کا زمانہ بڑا محنت طلب زمانہ ہوتا ہے۔چھوٹی عمر کے بچے سوسائٹی کی نظر میں اس وقت اچھے لگتے ہیں جب وہ تیار ہو کر سج دھج کر باہر نکلیں یعنی جب وہ بیمار نہ ہوں جب وہ ضد نہ کر رہے ہوں۔جب وہ شور نہ مچارہے ہوں جب وہ چیزوں کو توڑ نہ رہے ہوں اس وقت سوسائٹی کو بڑے پیارے لگتے ہیں۔جب ان میں سے کوئی بچہ حرکت شروع کر دے تو دیکھنے والوں کے اچانک تیور بدلنے لگتے ہیں آپ کے گھر میں کسی دوست کا بچہ آجائے تو آپ دیکھیں گے آپ کو کتنا پیارا لگے گا کیونکہ وہ سج دھج کر آیا ہوتا ہے اچھی اچھی باتیں کرتا ہے لیکن جوں ہی اس نے آپ کے گلدان کو توڑنے کے لئے ہاتھ ڈالا تو پھر دیکھیں آپ کے تیور کیسے بدلتے ہیں یا اگر کوئی بچہ پیشاب کر دے اور اس سے بد بو پھیل جائے اور پھر وہ اسی غلاظت کے ساتھ کرسیوں پر بیٹھنے لگے یا کھانے میں ہاتھ ڈال دے یا آپ کے کپڑوں کو خراب کرنے کی کوشش کرے تو پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ بچے کیا ہوتے ہیں۔پس اس چھوٹی عمر میں بچوں کو غیروں کے سپرد کر دینا جو اتنا حوصلہ ہی نہیں رکھتے کہ بچوں کے منفی پہلوؤں پر بھی بڑے حوصلے کے ساتھ چل سکیں، جن میں استطاعت ہی نہیں ہے کہ وہ ان کے تکلیف دہ حصوں کو کشادہ پیشانی کے ساتھ اور مسکراہٹ کے ساتھ برداشت کر سکیں۔یہ تو ماؤں کا جگرا ہے کہ راتوں کو بھی اٹھتی ہیں اور بچوں کی ہر مصیبت اور تکلیف کے وقت ان کا ساتھ دیتی ہیں۔اور ان کو صاف ستھر ا بناتی ہیں۔پس بچے جب تیار ہو کر باہر آئیں تو ان سے پیار کرنا تو ایک طبعی اور فطرتی چیز ہے پھول سے بھی تو لوگ پیار کرتے ہیں البتہ کانٹوں سے پیار کرنا، یہ ہے اصل امتحان۔اس امتحان پر مائیں پورا اترا کرتی ہیں۔یا کسی حد تک باپ پورا اترتے ہیں۔سوسائٹی اس بات کی اہل ہی نہیں ہے کہ وہ اس حالت میں بچوں کو پکڑے۔لیکن جب وہ شعور کی دنیا میں داخل ہورہے ہوں گے پھر آپ ایسی باتیں ان سے کہہ سکتے ہیں جس کی زبان وہ سمجھیں اور اس زبان میں وہ آپ کو جواب دیں۔بچے کی عمر کا نہایت حسّاس دور پس ( دین حق) کا نظام ایک بہت ہی گہرا اور مستحکم نظام ہے اس میں خلا کوئی نہیں ہے لیکن ذمہ داریاں