مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 297 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 297

مشعل راه جلد سوم 297 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی چھوٹی عمر میں بچہ ماں باپ کے زیر اثر ہی رہنا چاہیے رہی یہ بات کہ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ماں باپ کے سوا کسی دوسرے کے زیر اثر رکھا جائے تو یہ تو خود ایک غیر نفسیاتی حرکت ہے۔اگر آپ بہت چھوٹی عمر میں بچوں کو ان کے ماں باپ سے علیحدہ کر دیں گے یا ماں باپ کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ ان کو اپنے بچوں کی تربیت کا حق نہیں بلکہ والدین سے زیادہ کسی اور تنظیم کو حق ہے تو عمل یہ ایک نہایت ہی سنگین قدم ہے جو اشتراکیت کی طرف اُٹھتا ہوا نظر آتا ہے اور واقعۂ اشترا کی نظریے کے ساتھ اس کا گہرا جوڑ ہے چنانچہ ایسا نظریہ جو سطحی اشتراکیوں کا نظریہ نہیں بلکہ جوان کے فلسفے کی جان ہے یعنی اشترا کی نظریے کی روح ہے اگر آپ اس کو دیکھیں معلوم ہوتا ہے کہ اشتراکیوں کے نزدیک سوسائٹی بالغ ہی تب ہوگی جب پہلے ان کا بچہ بھی سٹیٹ کے زیراثر ہو جائے۔چنانچہ اس ضمن میں اشترا کی فلسفہ یہ کہتا ہے کہ جب ماں اور باپ بچوں پر ان کی ابتدائی عمر میں اثر ڈالنا شروع کریں تو اس کے بعد سٹیٹ پھر اپنی مرضی کے مطابق ان کو پوری طرح ڈھال ہی نہیں سکتی۔پس وہ بھی چونکہ یہ جانتے ہیں اور اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بچے کی زندگی کا ابتدائی دور بہت اہمیت رکھتا ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ پہلے دن کا بچہ ہی سٹیسٹ کا بچہ ہے ماں باپ کا ہے ہی نہیں۔کہتے ہیں کہ پہلے دن یہ ایک تصور پایا جاتا ہے کہ ماں باپ کا بچہ ہے اشتراکیت نے اس تصور کی جڑ ضرور کاٹنی ہے اس لئے شادی بیاہ کا نظام ہی اُٹھ جانا چاہیے۔یہ ہے اشتراکیت کی آخری تھیوری یعنی نظریے کا آخری قدم۔مذہبی سوسائٹی میں وہ جب باتیں کرتے ہیں تو وہ اپنے اس نظریے سے واقف نہیں کراتے کیونکہ ان کو یہ ڈر ہے کہ مثلاً پاکستان کے غرباء میں خواہ وہ کتنے ہی غریب کیوں نہ ہوں اگر یہ بتایا جائے کہ بالآخر جب تم کمیونسٹ ہو جاؤ گے اور اشتراکیت کا یہاں قبضہ ہو جائے گا ہم یہ سلوک تم سے کریں گے تمہارا شادی کا نظام ختم کر دیں گے تمہیں اپنے بچوں کا پتہ بھی نہیں لگنے دیں گے۔ہسپتالوں میں جاکے بچے پیدا کروائے جائیں گے اور ہسپتالوں کے جو بچے ہیں وہ حکومت اٹھا لے گی ماں کو فارغ کر کے پھر کارخانے میں بھجوادیا جائے گا یا جہاں بھی اس کو بھجوانا ہوگا بھجوایا جائے گا۔یہ ایک ایسا بنیادی نظریہ ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ اس پر عمل کیوں نہیں کر رہے تو کہتے ہیں کہ ابھی ہم پختہ نہیں ہوئے ابھی اشتراکیت کی تعلیم کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو عمل کی دنیا میں نہیں ڈھالا گیا کیونکہ ہم ابھی اس کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہوئے لیکن یہ آخری قدم لازماً اٹھنا ہے ورنہ اشتراکیت کا نظام اس کے بغیرمستحکم نہیں ہوسکتا اس کے اندر تضادات رہ جائیں گے۔