مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 233

233 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہی ہم قادیان میں داخل ہو گئے تو میں خوشی سے چلا اٹھا اور کہنے لگا کہ یہ میری مسلسل دعاؤں کے نتیجہ میں ہی ہم بخیر وعافیت پہنچ گئے ہیں۔لہذا اب مجھے دو گیلن پٹرول کا تحفہ دے دیا جائے اور حقیقت میں بھی میں دعائیں کرتا رہا تھا۔چنانچہ مجھے میرا تحفہ دے دیا گیا اور اس ناقابل فراموش واقعہ نے میری زندگی پر انمٹ نقوش ثبت کر دیئے۔اور یہی عادت میں بھی اپنے بچوں کو ڈالتا رہا۔اس ضمن میں حضور نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی عزیزہ طوبی کے بچپن کا ایک دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:- ایک دفعہ میں اسے سائیکل پر آگے بٹھائے ہوئے اپنے فارم پر سے جہاں ایک چھوٹا Fish Pond اور Swimming Pool تھا واپس آرہا تھا۔بچی نے اس روز پیارا سا نیا جوتا پہن رکھا تھا۔پاؤں کے سو جانے کی وجہ سے یہ جو تا راستہ میں کہیں گر گیا جس کا بچی کو احساس نہ ہو سکا اور جب اسے علم ہوا تو کافی راستہ گزر چکا تھا اور ویسے بھی اندھیرا ہورہا تھا۔ہم نے واپس جا کر تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود۔چنانچہ ہم گھر واپس جارہے تھے تو اچانک اس نے اونچی اور اپنی تو تلی زبان میں یہ دعا پڑھی إِنَّا لِلَّهِ رَاجِعُون (چھوٹی عمر کی وجہ سے وہ پوری دعا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ادا نہ کر سکتی تھی۔میں نے اپنے بچوں کو یہ دعا سکھا رکھی تھی کہ کہ کسی چیز کے کھو جانے پر یہ دعا پڑھ لینی چاہیے۔چنانچہ اسے یاد آ گیا کہ اس لئے اسے جس طرح بھی آتی تھی پڑھ دی اور جیسے ہی اس نے یہ دعا پڑھی تو مخالف سمت سے ایک شخص سائیکل پر آیا اور اس کے ہاتھ میں وہی جوتی پکڑی ہوئی تھی۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا اور میں نے اس سے پوچھا کہ وہ تو مخالف سمت سے آ رہا تھا تو اسے جوتی کس طرح مل گئی۔اس پر اس نے بتایا کہ کچھ دیر پہلے جب وہ حضور کے پاس سے گزر کر گیا تو اسے یہ جوتی ملی۔لہذا یہ سوچ کر کہ یہ تو ایک ہی تھی واپس لے آیا اور اتفاق سے یہ واقعہ حقیقتا اسی وقت پیش آیا جبکہ بچی کے منہ سے دعائیہ الفاظ نکلے“۔فرمایا:- ایسے ہی متعدد واقعات ہر احمدی گھر میں پیش آتے ہیں۔اس میں صرف میرا یا میری بچی کا ہی کمال نہیں ہے۔بلکہ اپنے بچوں کو تعلیم دینے اور دعاؤں کی برکات سکھانے کے نتیجہ