مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 232

نعل راه جلد سوم 232 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی ”ہم اپنے بچوں کی توجہ دعاؤں کی طرف اس لئے مبذول کرواتے ہیں تا کہ انہیں یہ اہمیت واضح ہو کہ اس کے نتیجے میں خدا تعالیٰ کے فضل نازل ہوں گے اور شاید ہی کوئی ایسا احمدی گھرانہ ہو جس کے بچے نے اپنی دعاؤں کے پھل نہ پائے ہوں۔اور اگر بالفرض ہم بعض اوقات نا امید بھی ہو جائیں تو ہمارے بچے یقین دلا دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہماری دعاؤں کے نتیجہ میں ضرور فضل فرمائے گا۔لہذا بجائے اس کے کہ والدین اپنے بچوں کو کہیں کہ فکر کی بات نہیں ہے، بچے اپنے والدین کی فکر مندی دور کر دیتے ہیں۔اور یہی چیز ایک حقیقت حال بن کر سامنے آجاتی ہے اور دعاؤں کے معجزات کی وجہ سے ان کے اندر ایک نئی قوت پیدا ہو جاتی ہے۔حضور نے فرمایا:- ” مجھے اپنا ایک ایسا واقعہ یاد ہے جس نے بچپن سے آج تک میرے دل پر گہرے نقوش جمارکھے ہیں اور میں اپنے والد گرامی حضرت مصلح موعود ( نوراللہ مرقدہ) کا اس تحفے کے لئے بے حد احسان مند ہوں جو آپ نے مجھے دیا۔فرمایا کہ:- ”ایک دفعہ بچپن میں ہم اپنے والدین کے ساتھ پہاڑی مقام سے قادیان واپس آرہے تھے تو راستہ میں یہ معلوم ہونے پر کہ کار میں پٹرول ختم ہے حضرت فضل عمر ( نور اللہ مرقدہ) نے اپنے بچوں سے کہا کہ جس بچے کی دعا کے نتیجہ میں ہم خیر وعافیت سے گھر پہنچ جائیں گے اس بچے کو دو گیلن پٹرول بطور انعام دیا جائے گا۔پٹرول کے ختم ہونے کا پتہ بھی اس وقت چلا جب کہ رات پڑ چکی تھی اور راستہ بھی سخت خطر ناک تھا۔گو بحیثیت جماعت کے سر براہ اور ( خلیفہ) ہونے کی حیثیت سے آپ کی دعا زیادہ قابل قبول تھی لیکن آپ چونکہ ہمیں دعا کی اہمیت سکھانا چاہتے تھے اور یہ بتانا چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ جو رحمت اور محبت کا سرچشمہ ہے وہ کسی کی بھی دعا خواہ وہ کوئی بھی ہو اور خصوصاً بچوں کی دعا زیادہ قبول فرماتا ہے۔کیونکہ بچے معصوم عن الخطاء اور خدا تعالیٰ کے زیادہ مقرب ہوتے ہیں۔اگر وہ دعا کو قبول کرنا چاہے تو کچھ بعید نہیں کہ بچوں کی دعا بھی قبول فرمالے اور یہی وہ اعلیٰ سبق تھا جو ہمیں سکھانا مقصود تھا۔سفر خدا کے فضل سے گزرتا گیا اور بظاہر یوں لگتا تھا کہ سارے بچے دعا کرنا بھول چکے تھے۔لیکن جیسے