مشعل راہ جلد سوم — Page 124
مشعل راه جلد سوم 124 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالی دماغ کے مختلف حصوں کی صلاحیتیں اس پر بہت ریسرچ ہو چکی ہے اور یہ پتہ چلا ہے کہ دماغ کے بے شمار ایسے حصے ہیں جن میں علم کے سٹور بھرے ہوئے ہیں۔ہم نے کسی وقت کوئی چیز سیکھی تھی اور وہ وہاں محفوظ ہوگئی ہے ان کو Actively (مستعدی کے ساتھ ) استعمال کرنے کی طاقت ہم میں ہو یا نہ ہولیکن دماغ میں وہ چیزیں موجود ہیں۔اس اصول پر انہوں نے یہ طریق سوچا کہ دماغ کو بتایا ہی نہ جائے کہ تم کچھ یاد کر رہے ہوتا کہ اس پر بوجھ نہ پڑے۔جس طرح طالب علم امتحان سے پہلے جب Consciously یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بعض اوقات دس دس دفعہ پڑھ کر اس کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں لیکن کہانی کے طور پر وہی مضمون پڑھ جائے اور خیال بھی نہ ہو کہ میں نے یاد کرنا ہے تو بعض دفعہ پوری کتاب کا مضمون ذہن میں رہتا ہے اور خود بخود وقت پر یاد آ جاتا ہے۔اس اصول پر انہوں نے زبان کا تجربہ کیا۔لوگوں سے کہا کہ تم Relaxed ہوکر میوزک سنو اور تم محسوس کرو گے کہ زبان آپ ہی آپ ڈوب رہی ہے کہ ان کا دعوی یہ تھا کہ ایک مہینہ کے اندر ہم نے پہلی Proficiency (ابتدائی لیاقت پیدا کر دی ہے۔یعنی زبان بولنے کی پہلی سٹیج Create کر دی اور ایک ہفتے کے بعد اچانک وہ لوگ زبان بولنے لگ گئے۔جس طرح کہ ان کو پہلے ہی آتی تھی۔اس طرح ان کو احساس ہوا۔اس پر رشیا کی ایک سائنٹسٹ ٹیم کا پتہ لگا تھا کہ اس نے ریسرچ کی ہے اور وہ اس میں بڑی گہری دلچسپی لے رہے ہیں۔اس لئے ہو سکتا ہے کہ میاں احمد صاحب کی جو انفارمیشن ہے وہ اسی مضمون سے متعلق ہو اور زبان سیکھنے کا یہی طریق ہو۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ غیر معمولی طور پر تھوڑے وقت میں وہ زبانیں سکھاتے ہیں۔زبان کے بارے میں ایک اور تجربہ ایک اور تجربہ بھی ہوا ہے جس کے متعلق بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ یہ بالکل نا کام ہے۔لیکن بعض ابھی تک اصرار کر رہے ہیں کہ نہیں یہ مفید ہے اور Ordinarily یعنی بالعموم ہم میں سے ہر ایک کے یا ایک طبقے کے بس میں ہے وہ کہتے ہیں کہ مثلاً جو زبان تم سیکھنا چاہتے ہو وہ کیسٹ ریکارڈ کر لو۔اس کے بعد وہ جو Repeat System ہوتا ہے (جیسے Toshiba میں اشتہار آ رہاتھا کہ ٹیپ ختم ہو تو وہیں سے دوبارہ چل