مشعل راہ جلد سوم — Page 123
123 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم ہوئے ہیں بلغاریہ ایک مشرقی یورپ کا ملک ہے۔وہاں یہ تجربہ کیا گیا تھا کہ ایک میوزک ہال میں بہت ہی اعلیٰ اور آرام دہ کرسیاں بچائی گئیں۔جس طرح Luxury کے لئے صوفے سیٹ بنائے جاتے ہیں اور بیک گراؤنڈ میں انہوں نے ایک نئی زبان بھر دی اور اس کے ترجمے اور گرائمر وغیرہ پڑھا رہے ہیں۔فلور گراؤنڈ میں میوزک کا انتظام ہے۔لیکن ہلکی سی آواز میں زبان بھی سنائی دے رہی ہے۔توجہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ میوزک کی طرف دینی ہے، زبان کی طرف نہیں دینی۔زبان بھول جاؤ تمہارے اوپر اس کا کوئی بوجھ نہیں پڑنا چاہیے یہ تجربہ اس نظریے کے تحت کیا گیا۔کہ کا نفس برین یعنی ذہن بعض دفعہ با ہر ایک روک ڈال دیتا ہے اور اس سے ٹکرا کر بہت سے علوم واپس چلے جاتے ہیں اور ذہن کے اندر Penetrate (داخل) نہیں ہونے دیتا اور کانشنس برین یعنی شعوری ذہن میں ، ان کانشنس یا سب کانشنس برین یعنی غیر شعوری یا تحت الشعوری ذہن کی نسبت Storage Capacity یعنی الفاظ کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہے۔مثلاً سب کانشنس ( تحت الشعور ) کے متعلق تو یہاں تک معلوم ہوا ہے کہ ایک بچی کو انگریزی کے سوا کوئی زبان نہیں آتی تھی ، دوسری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتی تھی ، جب اس کے دماغ کا اپریشن ہونے لگا اور اس کے لئے ڈاکٹروں نے سوئیاں گزارنی شروع کیں تو ایک جگہ پہنچ کر وہ Fluent ( نہایت رواں ) زبان میں جرمن بولنے لگ گئی۔( دماغ کا ایک حصہ Excite کر دیا گیا جس کے نتیجے میں وہ جرمن بولنے لگ گئی ) ڈاکٹر بڑے متعجب ہوئے کہ یہ کیا قصہ ہے اس کے ماں باپ سے سوال کیا انہوں نے کہا ہم نے تو اس کو کبھی جرمن نہیں سکھائی۔پھر Cross Examination( کرید کر سوالات پوچھنے ) پر ماں کو یاد آ گیا کہ اصل میں بچپن میں اس کی دایہ ایک جرمن تھی اور اس کی عادت تھی Soliloquy یعنی وہ بیٹھی آپ ہی آپ منہ میں باتیں کیا کرتی تھی۔اب یہ اس کے بچپن کا تھوڑا سا دور تھا۔اس وقت کوئی Consciousness یعنی شعوری کیفیت اس کی ایسی نہیں تھی کہ جو وہ سیکھنا چاہتی تھی کانشنس برین، یا شعوری ذہن اس کو رد کر رہا تھا۔بلکہ جو وہ سن رہی تھی دماغ اس کو Sink ( جذب) کرتا جارہا تھا۔اس کے نتیجہ میں جب اس نے Consciously ( شعوری دور میں ) علم سیکھا تو وہ چیزیں سٹور ہو کے دب گئیں اور اس کو پتہ نہیں تھا کہ میرے اندر کیا قابلیت موجود ہے جب برقی آلوں نے دماغ کے اس حصے کو Excite کیا تو اچانک دوبارہ قوت بیدار ہوگئی اور پتہ لگا کہ انسان کے ذہن کی Storage Capacity (ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ) بہت زیادہ ہے اور وہ آپ ہی آپ علم کو Absorb (جذب) کرتا چلا جاتا ہے۔