مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 125 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 125

125 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ مشعل راه جلد سوم پڑے) اس میں ریکارڈنگ ہوئی ہو تو رات ملکی آواز میں چلا کر خود سو جاؤ۔ساری رات دماغ اس کو Catch کرتا رہے گا۔ہو سکتا ہے کہ جب تھوڑی دیر کے لئے Deep Sleep( گہری نیند ) میں آجائے تو اس وقت نہ کرے۔اس کی تفصیل میرے علم میں نہیں۔لیکن جو میں نے پڑھا ہے وہ یہی ہے کہ ساری رات Sleep یعنی نیند کی کوئی سٹیج، منزل ہو، ذہن اس کو نوٹ کرتا چلا جاتا ہے۔یہ بات تو درست ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔کیونکہ جیسا کہ پہلا تجربہ میں نے بیان کیا ہے ہوسکتا ہے بلکہ غالب خیال یہی ہے کہ ذہن ضرور ریکارڈ کرتا ہوگا۔لیکن اصل مشکل سوال یہ ہے کہ کیا کانشنس برین اس سب کا نشنس ریکارڈنگ سے استفادہ کر سکتا ہے یا نہیں اور اس کا کوئی کنکشن سٹم ہے یا نہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سٹم ضرور ہے۔ورنہ یہ سارا بے کار تھا اور اللہ تعالیٰ کوئی باطل اور بے کار چیز پیدا نہیں کرتا۔چنانچہ پہلے دن بچے کے ایک کان میں اذان دینا اور دوسرے کان میں تکبیر یعنی اقامت کہنا یہ بھی ایک لغو فعل بن جاتا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہے اور قرآن کریم کی تعلیم کے خلاف ہے اور حضوراکرم ایسا کر ہی نہیں سکتے تھے اگر یہ لغو ہوتا۔آپ کی زندگی کا ایک ذرہ بھی تعلیم قرآنی کے خلاف نہیں۔اس پہلو سے مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب کانشنس برین سے کانشنس برین کے استفادے کا کوئی نظام ضرور قائم کیا ہوگا۔ممکن ہے بعض ذہنوں میں وہ کنکشن جلدی پیدا ہو جاتا ہو، بعض میں ذراست پڑ گیا ہو۔اس لئے اگر آپ کے پاس توشیبا یا کوئی اور کیسٹ ریکارڈر ہو جس طرح موٹر کے ہوتے ہیں (اس میں اکثر ر پیسٹ سسٹم والے آتے ہیں۔عام طور پر موٹر کے ریکارڈر ہیں ان میں ریکارڈ تو نہیں ہوسکتا ہے ) تو آپ میں سے اگر کوئی تجربہ کرنا چاہتے ہیں تو تجربہ کر کے اس کے فوائد کوریکارڈ کریں۔یہ تجربہ دو طریق سے ہونا چاہیے۔ایک تو یہ کہ رات کو سونے کے بعد صرف سنا جائے یا کچھ حصہ Consciously سن لیا جائے اور پھر سو جائیں تا کہ دماغ سے اس کا ایک Link قائم ہو جائے اور مہینہ دو مہینے کے بعد دیکھیں کہ کسی قسم کی آپ میں Improvement ہوئی ہے کہ نہیں۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ اس تجربے کے بعد اسی آواز کے ذریعہ پھر وہ زبان سیکھنے کی کوشش کریں اور پھر ایک ایسا کنٹرول گروپ ہو جو بغیر اس تجربے کے بعد میں اکٹھے زبان سیکھنے کی کوشش کریں۔میں تھیں کا ایک کنٹرول گروپ بنالیں۔اور ایک Experimental یعنی تجرباتی گروپ بنالیں۔ان کے موازنے سے ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ واقعہ کوئی فائدہ ہے یا نہیں ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم میں جو فائدہ ہے ہم اس کے راز کو پاسکے ہیں کہ نہیں اور اس ذریعے سے اس کا کوئی تعلق ہے یا نہیں۔