مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 594 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 594

594 مشعل راه جلد سوم ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سے قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکوہ ہو کہ اے خدا! میری کہلانے والی، مراد کہلانے کا مضمون اس میں داخل ہے، میری کہلانے والی قوم نے اس قرآن کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا، مہجور کی طرح چھوڑ کر چلی گئی۔پس آج جماعت کینیڈا کی تربیت کی ایک ہی پہچان ہے۔کیا آپ کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ شکوہ۔جائز تو ہوگا شکوہ، مگر آپ دل میں سوچ کے دیکھیں کہ شکوہ آپ پر اطلاق پائے گا کہ نہیں۔آپ میں سے کتنے ہیں جن کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن خدا کے حضور عرض کر سکتے ہیں کہ اے خدا! یہ میری قوم ہے جس نے قرآن کو مجبور کی طرح نہیں چھوڑا۔پس بہت ہی اہم مسئلہ ہے اور عبادت کی جان قرآن کریم ہے۔عبادت سے پہلے بھی قرآن ہے یعنی تہجد کے وقت بھی جتنی توفیق ملے۔قرآن کریم فرماتا ہے قرآن کی تلاوت کیا کرو اور عبادت کے دوران بھی تلاوت ہے اور عبادت کے بعد بھی تلاوت ہے۔پس تلاوت قرآن کریم کی عادت ڈالنا اور اس کے معانی پر غور سکھانا ، یہ ہماری تربیت کی بنیادی ضرورت ہے اور تربیت کی کنجی ہے جس کے بغیر ہماری تربیت ہو نہیں سکتی اور یہ وہ پہلو ہے جس کی طرف اکثر مربیان ، اکثر صدران، اکثر امراء بالکل غافل ہیں۔ان کو بڑی بڑی ( بیوت الذکر ) دکھائی دیتی ہیں ، ان کو بڑے بڑے اجتماعات نظر آتے ہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ بڑے جوش سے اور ذوق و شوق سے لوگ دور دور کا سفر کر کے آئے اور چند دن ایک جلسے میں شامل ہو گئے۔لیکن یہ چند دن کا سفر تو وہ سفر نہیں ہے جو سفر آخرت کے لئے مد ہو سکتا ہے۔سفر آخرت کے لئے روزانہ کا سفر ضروری ہے اور روزانہ کے سفر میں زاد راہ قرآن کریم ہے۔چنانچہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مومن کی مثال اسی طرح دی ہے۔یہ نہیں فرمایا کہ تین سو پچپن دن سوتا ہے اور پھر پانچ دس دن کے لئے جاگتا ہے اور سفر شروع کر دیتا ہے۔فرمایا مومن کی مثال تو ایسی ہے جیسے کوئی روزانہ سفر کر رہا ہو۔کچھ صبح، کچھ شام کو، کچھ دوسرے وقت میں، دوپہر کو کچھ آرام بھی کر لے مگر سفر روزانہ جاری رہنا چاہیے اور ہر سفر کے لئے قرآن کریم فرماتا ہے زادِ راہ ہونا چاہیے اور زاد راہ تقوی بیان فرمایا اور یہی زادِ راہ ہے جس کو قرآن کریم کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔پس تقوی اور قرآن کریم تو روز کے سفر کے قصے ہیں۔یہ کوئی ایک آدھ دفعہ سال میں سفر کرنے سے تعلق رکھنے والی بات نہیں، روزانہ ضرورت ہے۔روزانہ قرآن کو پڑھنا اور روزانہ تقویٰ کے سہارے جو زادِ