مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 595 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 595

595 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم راہ ہے یعنی جس سے قوت ملتی ہے قرآن کریم سے کچھ نہ کچھ فائدہ حاصل کرتے چلے جانا ہے۔یہ وہ بنیادی امر ہے جس کے لئے صرف تنظیموں کے اجتماعات کی ضرورت نہیں تنظیموں کے اجتماعات ان باتوں میں نئی دلچسپیاں پیدا کر دیا کرتے ہیں مگر سارا سال دلچسپیاں قائم رکھنے کے لئے ماں باپ کی دلچسپی کی ضرورت ہے اور ماں باپ تب دلچسپی لے سکتے ہیں کہ پہلے اپنی ذات میں دلچسپی لیں۔دنیا کے کسی حصہ میں پہنچے ہوں، ایک دفعہ انہیں عزم کرنا ہوگا کہ ہم نے خدا کی طرف سفر کا آغاز کرنا ہے اور یہ سفر قرآن کے بغیر ممکن نہیں اور قرآن کا سفر زاد راہ چاہتا ہے۔یعنی رستے کا سامان جو ہر مسافر ساتھ باندھ لیا کرتا ہے۔جب بھی لوگ سفر پہ چلتے ہیں تو سوائے اس کے کہ رستے میں کچھ کھانے پینے کے ہوٹل ایسے ہوں جہاں سے چیزیں خریدنی ہوں مگر عموماً اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ باندھ لیا کرتے ہیں اور تقویٰ ہے جس کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔پس فرمایا ” ذلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ» (سورۃ البقرہ:3) اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ شک سے بالا کتاب ہے مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ ہدایت صرف متقیوں کے لئے ہے۔جو تقویٰ سے آراستہ ہوں گے ان کے لئے ہدایت کا سامان پیدا کرے گی۔پس قرآن کا تقویٰ سے مطالعہ، یہ دو چیزیں اکٹھی کر دی گئی ہیں۔بعض اوقات لوگ سالہا سال تلاوت قرآن کرتے ہیں مگر اس طرح جیسے طوطارٹی ہوئی باتیں دہراتا ہے۔اس سے زیادہ ان کو کوئی سمجھ نہیں آتی اور یہ تقویٰ سے عاری سفر ہے۔سفر تو ہے مگر بھو کے ننگے کا سفر ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ قرآن کے تعلق میں یہ بات یاد دلاتا ہے کہ قرآن کریم میں کچھ چیزوں سے بچنے کا حکم ہے، کچھ رستوں کو اختیار کرنے کا حکم ہے اور بنیادی معنوں میں تقویٰ کا یہی معنی ہے کہ پتہ ہو کہ کہاں سے بچنا ہے اور کس رستے پہ قدم بڑھانے ہیں۔تقویٰ کے نتیجے میں انسان قرآن کریم پر جب غور کرتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معانی عطا ہوتے ہیں۔چنانچہ اسی مضمون کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا " لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ (الواقعہ: 80) کہ ہاتھ تو بظاہر لوگ لگاتے ہیں لیکن سوائے ان کے جن کو خدا پاک کرے، کوئی اس کتاب کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔تو دیکھو دونوں مضمون ایک ہی ہیں اور مختلف رنگ میں ایک ہی بات آپ کو سمجھائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے ترجمے کے ساتھ پڑھنے کی طرف ساری جماعت کو متوجہ ہونا چاہیے۔کوئی بھی ایسا نہ ہو جس کے پاس سوائے اس کے کہ شرعی عذر ہو جو روزانہ قرآن کریم کی تلاوت سے محروم رہے۔تمام بچوں کو اس راہ پر ڈالیں۔دیکھیں جب سکول کے لئے وہ چلتے ہیں تو آپ کتنی محنت ان پر کرتے ہیں۔مائیں دوڑتی پھرتی ہیں ناشتہ کراؤ ، منہ ہاتھ دھلاؤ، بستے ٹھیک کرو اور قرآن کریم کی طرف محنت نہیں