مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 593 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 593

593 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم بہتر ہو رہی ہیں مگر اگر بنیادی مقصد دور ہی رہے تو اس ظاہری ہنگامے کا کوئی بھی فائدہ نہیں۔یہ ہنگامے رفتہ رفتہ مرجایا کرتے ہیں۔رفتہ رفتہ اگلی نسلیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کو بھلا دیا کرتی ہیں۔مگر کلام الہی سے محبت ایک ایسی چیز ہے جو نسلوں کو سنبھالے رکھتی ہے۔پس بچپن ہی سے اس بات پر زور دیں یعنی آپ کے بچوں کے بچپن۔آپ تو بڑے ہو چکے ہیں۔آپ نے تو ، جس طرح بھی خدا نے چاہایا آپ نے چاہا خدا کی مرضی کے مطابق یا اس کے خلاف زندگی بسر کر لی۔لیکن اگلی نسلیں آپ کی ذمہ داری ہیں اور آئندہ صدی ان انگلی نسلوں کی ذمہ داری ہوگی۔پس آج اگر آپ نے ان کو قرآن کریم پر قائم نہ کیا تو باقی ساری باتیں جو اس کے بعد بیان ہوئی ہیں ان میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔قرآن کریم پر زور دینا اور تلاوت سے اس کا آغاز کرنا بہت ہی اہم ہے۔مگر تلاوت کے ساتھ ان نسلوں میں ، ان قوموں میں جہاں عربی سے بہت ہی نا واقفیت ہے، ساتھ ترجمہ پڑھنا ضروری ہے۔ترجمے کے لئے مختلف نظاموں کے تابع تربیتی انتظامات جاری ہیں مگر بہت کم ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اٹھا سکتے ہیں۔اس لئے جب میں ایسی رپورٹیں دیکھتا ہوں کہ ہم نے فلاں جگہ قرآن کریم کی کلاس جاری کی یا فلاں جگہ قرآن کریم کی کلاس جاری کی تو میں ہمیشہ تجب سے دیکھتا ہوں کہ اس کلاس میں سارے سال میں بھلا کتنوں نے فائدہ اٹھایا ہوگا اور جو فائدہ اٹھاتے بھی ہیں تو چند دن کے فائدے کے بعد پھر اس فائدے کو زائل کرنے میں باقی وقت صرف کر دیتے ہیں۔وہی بچے ہیں جن کو آپ نے قرآن کریم سکھانے کی کوشش کی۔چند دن بعد ان سے پوچھ کے دیکھیں تو جو کچھ سیکھا تھا سب بھلا چکے ہوں گے۔بڑی وجہ اس کی یہ ہے کہ ہماری جو بڑی نسل ہے اس نے قرآن کریم کی طرف پوری توجہ نہیں دی اور اکثر ہم میں بالغ مردوہ ہیں جو دین سے محبت تو رکھتے ہیں لیکن ان کو یہ سلیقہ سکھایا نہیں گیا کہ قرآن سے محبت کے بغیر دین سے محبت رکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔وقتی طور پر تو فوائد تو ہیں لیکن ان فوائد کا اعلیٰ مقصد یہ ہے کہ ان کی دین سے محبت ، دین کے لئے وقت نکالنا، دین کے لئے محنت کرنا ان کو گھیر کر قرآن کی طرف لے آئے۔اگر یہ فائدہ نہ ہو تو وہ کوششیں بے کار ہیں۔کیونکہ قرآن کریم کا پہلا تعارف ذلِكَ الْكِتَابُ ہے۔وہ کتاب جس کی قوم انتظار کر رہی ہے۔جب سے دنیا بنی ہے اس کتاب کا انتظار تھا بنی آدم کو اور جب یہ آ گئی تو کتنے ہیں جو اس سے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔پس حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ رسول شکوہ کرے گا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو مہجور کی طرح چھوڑ دیا۔پس آپ وہ قوم نہ بنیں جن