مشعل راہ جلد سوم — Page 48
مشعل راه جلد سوم 48 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ رہنا ہے ایک لمحہ کے لئے بھی اس دامن کو نہیں چھوڑنا۔وہ دامن ہم سے کیا تقاضے کرتا ہے؟ وہ دامن ہمیں طائف کی یاد دلاتا ہے۔کیسی حسین یاد ہے، کیسی پیاری یاد ہے ہر چند کہ درد سے بھری ہوئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غلام کو لے کر ، مکہ سے مایوس ہو کر طائف کی بستی میں چلے جاتے ہیں۔وہ ایک پہاڑی علاقہ ہے، پتھریلا ، سنگلاخ۔لیکن جتنی وہ زمین سنگلاخ تھی اس سے زیادہ ان لوگوں کے دل سنگلاخ تھے جو وہاں بسا کرتے تھے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف امن کا پیغام لے گئے تھے، رحمت اور محبت کا پیغام لے گئے تھے ، کوئی دلآزاری کی بات آپ نے نہیں کی۔ان کو خدائے واحد ویگانہ کی طرف آپ نے بلایا اور اس کے جواب میں آپ کو گالیاں دی گئیں ، آپ پر پتھر برسائے گئے۔گلیوں کے اوباش اور لونڈے جھولیوں میں پتھر ڈال کر اس حال میں آپ کو وداع کہنے گئے کہ سر سے پاؤں تک آپ کا بدن لہولہان ہو چکا تھا۔آپ کے جوتے خون سے بھر گئے تھے اور اس پھسلن کی وجہ سے چلنا دشوار ہورہا تھا۔مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامل وقار کے ساتھ ، کسی جلدی میں نہیں ، بلکہ نہایت متانت کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے ، اس بستی کو دعائیں دیتے ہوئے اس حال میں باہر نکلے۔باہر نکلے ، ایک تاکستان تھا اس کے کنارے آپ کستانے کے لئے بیٹھ گئے۔دل کی عجیب کیفیت تھی۔غم والم سے گداز دل تھا۔ایسی حالت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آسمان سے وہ فرشتہ نازل ہوا جو ملک الجبال تھا۔یعنی وہ فرشتہ جسے پہاڑوں پر قدرت دی گئی تھی۔اس نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ! خدا آج بڑا غضبناک ہے۔آپ کے ساتھ اس بہتی نے آج جو ظلم کا سلوک کیا ہے اس پر اللہ تعالیٰ ایسا غضبناک ہے کہ اس نے مجھے حکم دیا ہے کہ اگر آج محمد مصطفی " چاہیں تو دو پہاڑوں کو جو بستی کے دائیں اور بائیں ہیں اس طرح ملا دوں کہ ہمیشہ کے لئے اس بستی کا نام ونشان مٹ جائے۔وہ دل جس کے زخم ابھی تازہ تھے، جس کا خون ابھی بدن سے رس رہا تھا ، ابھی وہ خشک نہیں ہوا تھا، جب زخم تازہ ہوں وہ وقت ہوتا ہے انتقام کا، جب تازہ تازہ صدمہ پہنچا ہو وہ وقت ہوتا ہے بے صبری دکھانے کا۔مگر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہماری جان ، ہمارے مال، ہمارے ماں باپ ، ہمارا سب کچھ فدا ہو، اس دکھ کی انتہائی حالت میں جب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے، بغیر کسی بددعا کے ، اس قوم کو مٹانے کا فیصلہ فرمایا تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ عرض کی کہ اے خدا! میں تو رحمت ہوں۔مجھے تو بنی نوع انسان سے کوئی دشمنی نہیں۔جو دکھ ہے وہ اپنی جان پر لوں گا۔یہ آپ کی کیفیت تھی۔عرض یہ کیا :- اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ نور اليقين في سيرة سيد المرسلین مولفہ محمد حضرتی بک ص 67)