مشعل راہ جلد سوم — Page 21
مشعل راه جلد سوم 21 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ کسی حالت میں بھی کبھی ان پر خوف غالب نہیں آتا کیونکہ خوف بھی ایک غیر اللہ ہے۔کسی حالت میں غم ان پر غالب نہیں آتا کیونکہ غم بھی غیر اللہ ہے اور وہ غیر اللہ سے پاک ہو چکے ہوتے ہیں۔پس ہر عبادت کو اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرنے کا یہ مفہوم ہے جو سورہ فاتحہ ہمیں سکھاتی ہے۔اس لئے جب سورہ فاتحہ کو آپ غور سے پڑھیں گے تو ان سات آیات میں صرف ایک مضمون نہیں بلکہ معرفت کے لامتناہی سکتے آپ پر کھلیں گے اور ایک نہ ختم ہونے والا روحانی خزانہ آپ کو مل جائے گا۔اس لئے اسے غور سے پڑھیں، محبت کے ساتھ پڑھیں، پیار کے ساتھ پڑھیں، اسی کا نام الہی محبت ہے۔اسی کے نتیجہ میں آپ کے دل خدا تعالیٰ کے فضل سے پاک اور صاف کئے جائیں گے۔اسی کے نتیجہ میں آپ کو ابدی زندگی عطا ہوگی اور جنت ملے گی، جس کا ذکر ان آیات میں ہے جو میں نے اس خطبہ کے شروع میں پڑھی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَ سَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَّبِّكُمُ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمواتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ۔(ال عمران: 134 ) فرماتا ہے سَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِن رَّبِّكُم اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والی مغفرت کی طرف ہم تمہیں بلا رہے ہیں ، دوڑتے ہوئے چلے آؤ۔اس مغفرت کے نتیجہ میں تمہیں کیا ملے گا؟ فرمایا ایسی جنت ملے گی عرضُهَا السَّمواتُ وَالاَرضُ جس کا محیط آسمانوں اور زمین کے محیط کے برا بر ہے کوئی حصہ اس سے باہر نہیں ہے، یہ ایک جنت ہے جو جغرافیائی قیود سے آزاد ہے، تم جس جگہ ہو جہاں جاؤ وہ جنت تمہارے ساتھ ساتھ چلے گی اور تم اس جنت کے سائے سے نکل ہی نہیں سکتے۔یہ ہے پیغام اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے لئے کہ دوڑے آؤ مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس سے تم باہر نہیں جاسکتے۔اس میں ایک مومن کے لئے کتنا عظیم الشان پیغام ہے جو بظاہر ایک ملک سے ہجرت کر کے کسی دوسرے ملک میں جاتا ہے جیسا کہ میں نے اس خطبہ کے شروع میں کہا تھا کہ آپ اپنی جنتیں ساتھ لے کر آئے تھے۔جب خدا کی خاطر نکالے گئے تو یہ نہیں ہوا کہ اپنی جنتیں پیچھے چھوڑ کر آ گئے ہوں بلکہ خدا کی رحمت کی جنتیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں اور یہ جنت ان معنوں میں ہے کہ اس کے بعد آپ کو مشکلات پیش نہیں آئیں گی اور اس جنت کی تشریح خدا تعالیٰ نے خود فرما دی ہے۔فرماتا ہے یہ جنت کیا ہے؟ یہ جنت اللہ تعالیٰ کی خاطر قربانی کی لذتیں حاصل کرنے کی جنت اور خدا تعالیٰ کی رضا میں مزہ اُٹھانے کی جنت ہے۔ایسے