مشعل راہ جلد سوم — Page 22
مشعل راه جلد سوم 22 ارشادات حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحم اللہ تعالیٰ لوگوں پر آزمائشیں بھی آئیں تب بھی یہ جنت ان سے کوئی چھین نہیں سکتا۔چنانچہ فرماتا ہے :- الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَ الضَّرَّاءِ وَ الكَظِمِينَ الغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ (ال عمران: 135 ) یہ وہ لوگ ہیں جن پر تنگی آئے یا آسائش آئے ، آسانی پیدا ہو یا مشکل پیش آجائے یہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے پر ایسا مزہ اٹھاتے ہیں کہ پھر اس مزہ کو چھوڑتے ہی نہیں۔دنیا میں ہر قسم کی کیفیت سے گذر جائیں گے لیکن یہ جنت ان سے کوئی نہیں چھین سکتا کیونکہ وہ اللہ کی خاطر قربانی کرتے ہیں اور اسی کی رضا کی خاطر ہر دوسری چیز کو فدا کر دیتے ہیں۔پس ایسے لوگ مشکل آئے تب وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی۔آرام آئے تب بھی وہ خدا سے راضی اور خدا ان سے راضی۔جیسا کہ حضرت مصلح موعودنو راللہ مرقدہ کے اس شعر سے ظاہر ہے جسے میں بار ہا پہلے بھی دوستوں کو سنا چکا ہوں۔بہت ہی پیارا شعر ہے آپ اپنے رب سے عرض کرتے ہیں ؎ ہو فضل تیرا یا رب یا کوئی ابتلا ہو راضی ہیں ہم اسی میں جس میں تری رضا ہو اب ہم تیرے وہ بندے بن چکے ہیں اور ہمیشہ کے لئے تجھ سے وابستہ ہو چکے ہیں۔اب تو فضل لے کر آئے تب بھی ہم تجھ سے راضی ہیں اور کوئی ابتلا اور مشکل آئے تب بھی ہم راضی ہیں۔یہ وہ جنت ہے جس كا ذكر عَرْضُهَا السَّموات والارض میں کیا گیا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمین پر محیط ہے۔ایسے بندے ارضِ خاکی پر رہیں یا آسمانوں پر اُڑنے لگیں یہ جنت اب ان کا کبھی ساتھ نہیں چھوڑے گی۔کوئی مشکل ان سے یہ جنت چھین نہیں سکے گی۔کوئی آسانی ان سے یہ جنت چھین نہیں سکے گی۔اس جنت کو پانے کے بعد پھر وہ ان لوگوں کو جنہوں نے ان کو دکھ دیئے ہوتے ہیں یا جن کے ہاتھوں انہوں نے مصائب اٹھائے ہوتے ہیں اُن کے متعلق بھی اُن کی رائے بدل جاتی ہے۔اُن کے دل میں انتقام باقی نہیں رہتا اور کوئی نفرت کا جذ بہ نہیں رہتا۔فرماتا ہے :- وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَ الْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ یہ اصحاب جنت ایک عظیم الشان انقلابی کیفیت پیدا کر جاتے ہیں اور وہ کیفیت یہ ہے وَ الْكَظِمِينَ الغَيْظ ان کو شدید غصہ آئے تو اس کو دبانے لگ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں اے خدا! ہمیں تو مل گیا ہے تو اب شکوہ کس بات کا اور غصہ کس سے۔اگر غیر نے ہمیں بتلائے مصیبت کیا اور اس کے نتیجہ میں ہمیں تو مل گیا