مشعل راہ جلد سوم — Page 20
مشعل راه جلد سوم 20 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی ہے جس پر یہ دعا چسپاں نہیں ہوتی ؟ کوئی بیماری لاحق ہو، کوئی مشکل در پیش ہو، سفر میں حضر میں کوئی مصیبت پیش آجائے۔مثلاً چلتے چلتے موٹر خراب ہو جائے تب بھی آپ ايَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا کے ذریعہ مسائل حل کر اسکتے ہیں۔کوئی عزیز بیمار ہو، ایمانی کمزوری کا ڈر ہو، مالی مشکلات کا سامنا ہو کسی کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل ہوں، مقدمات کے مسائل دامن گیر ہوں، کئی قسم کی پریشانیاں ہیں جو ہزار رنگ میں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔غرض کوئی مشکل ہو یا مصیبت پیش آجائے ہر موقع پر ایک رنگ میں انسان کو گھیر لیتی ہیں۔غرض کوئی مشکل ہو یا مصیبت پیش آجائے ہر موقع پر ایک عبادت گزار کی نجات کی راہ ایاک نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ میں موجود ہے۔تا ہم اس دعا کے دو پہلو ہیں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا کا حق دار انسان تب بنتا ہے جب وہ پہلے ایاک نَعْبُدُ کا حق ادا کرے۔اگر یہ بات ہی جھوٹی ہو کہ ہم خدا کی عبادت کرتے ہیں تو پھر ايَّاكَ نَسْتَعِینُ کی دعا بھی جھوٹی ثابت ہو گی۔ان دونوں کا آپس میں ایسا گہرا واسطہ ہے اور ان میں ایک ایسا گہرا ربط ہے اور ایسا پختہ تعلق ہے کہ ایک کی طاقت سے دوسری چیز طاقت پکڑتی ہے۔اگر کوئی انسان عبادت واقعۂ خدا کی کرتا ہے اور کسی کی نہیں کرتا تو پھر وہ حقیقتاً غیر اللہ سے مستغنی ہو جاتا ہے۔ایسی صورت میں پھر یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایساكَ نَسْتَعِین کی دعا کبھی ناکام ہو جائے۔یہ ناممکن ہے کہ ایسے انسان کی پکار سنی نہ جائے۔یہ وہ بندے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الیس اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ کہ ہاں میرے بندے تو میرا بندہ بن گیا۔میں نے تجھے اپنا بندہ بنا لیا۔اب تو میری مدد مانگتا ہے۔تو تجھے میرا یہ جواب ہے کہ کیا اللہ اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔جب تو نے اپنے لئے مجھے کافی سمجھا تو میں بھی تیرے لئے کافی ہوکر بتاؤں گا۔یہ وہ مقام ہے جس پر پہنچ کر انسان تمام قسم کے فکروں سے آزاد ہو جاتا ہے۔تمام خوفوں سے بالا ہو جاتا ہے۔وہ اہل اللہ بن کر خدا کے فضل کے ساتھ اور اس کی رحمت کے سایہ میں زندگی بسر کرنے لگ جاتا ہے اور انہی کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (سورة يونس : 63) جب کچھ بندے میرے دوست بن جاتے ہیں ، عبادت کے رستہ سے داخل ہوتے ہیں اور میری دوستی کی راہوں پر چلتے ہوئے مجھ تک پہنچ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس وقت ان کو دعائیں کرنے یعنی ہر بات میں مجھے پکارنے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔اُن کا سارا وجود اور اُن کی ساری زندگی بکار بن چکی ہوتی ہے۔فرمایا:-