مشعل راہ جلد سوم — Page 109
109 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی مشعل راه جلد سوم جب مزید تحقیق ہوئی تو ایسی بہت سی باتیں ثابت ہوئیں جن سے پتہ چلا کہ ارتقاء تو درست ہے مگر ڈارون کا نظریہ ارتقاء غلط ہے اور کوئی تو جید ایسی نہیں ہے جو اس کو صحیح ثابت کر سکے۔نظریہ ارتقاء پر مذہبی نقطہ نگاہ سے تحقیق کے پہلو مجھے ایک تازہ مضمون دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔چند سال پہلے میں نے احمدی طلبہ میں سے جو بائیولوجی (Biology) کے سٹوڈنٹس تھے ان میں سے بعض کو بلایا۔میں نے ان سے کہا مجھے Evolution Theory یعنی نظریہ ارتقاء پر مذہبی نقطہ نگاہ سے جو اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ دو باتیں ایسی ہیں جن پر احمدی طلبہ کو خاص طور پر کام کرنا چاہیے۔ایک یہ کہ آنکھ کی بناوٹ میں ارتقاء کا کوئی دخل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں Piccemeal یعنی مرحلہ وار ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔یہ ایک Compact Unit ہے۔یعنی یہ ہر لحاظ سے ایک مربوط اور مکمل یونٹ ہے اور بحیثیت ایک یونٹ کے ہمیں ملتا ہے اس کے اندر نہ ارتقاء کی کوئی تاریخ مل رہی ہے نہ یہ نظریہ ارتقاء کے ذریعہ بن سکتی ہے۔کسی پیمانے پر بھی اس کو Apply کر کے دیکھ لیں۔یہ ارتقاء کی متحمل نہیں ہو سکتی۔دوسرے میں نے یہ کہا کہ بیرونی تبدیلیوں کا Internal Chemistry سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس لئے یہ کہنا کہ Survival of the Fittest کے نتیجہ میں ارتقاء پیدا ہورہا ہے یہ غلط ہے کیونکہ Genes کے اندر کیریکٹر کی Fixation اور اندرونی تبدیلیوں کا بیرونی مواجہات کی تبدیلی سے کوئی بھی عقلی یا سائنٹیفک تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔یہ ناممکن ہے۔کیا ارتقاء کا محض اتفاقی ہو نا ممکن ہے پی نہیں انہوں (احمدی طلبہ ) نے کام کیا یا نہیں مگر اب میں انگلستان میں تھا تو ایک سائنٹیفک رسالہ آیا اس میں بعینہ یہ دو چیزیں لکھی ہوئی ہیں اور پھر ڈائجسٹ پر میری نظر پڑی۔یعنی ایک تو سائنٹیفک رسالہ میں اس پر بڑی تفصیل سے مضمون ہے اور ڈائجسٹ نے بھی اس مضمون کو لیا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ یہ دو اعتراضات ہیں جن کا ہمارے پاس قطعی طور پر کوئی جواب نہیں بنا۔سو فیصدی شکست تسلیم کرتے ہیں کہ آنکھ کس طرح پیدا ہو گئی۔ایولوشن Evolution کے ذریعہ اور Internal Chemistry میں تبدیلیاں کیسے آگئیں اور وہ اتنی گہری ہیں اور ان میں اتنی یک جہتی Direction ہے کہ ابھی جو حال ہی میں اس موضوع پر امریکہ میں ایک کانفرنس ہوئی ہے۔اس میں ایک سائنسدان نے جو ماہر ریاضی ہے۔اس نے ان