مشعل راہ جلد سوم

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 751

مشعل راہ جلد سوم — Page 108

مشعل راه جلد سوم 108 ارشادات حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی تھے۔آخر تم یہیں آجاؤ گے تو سائنسدان کہتے ہیں کہ اس کے سوا ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں رہا کہ یہ مان لیں کہ کوئی باشعور ہستی ہے، کوئی طاقت ایسی ہے جس نے اس کا ئنات کو پیدا کیا ہے۔حسابی نظریہ سے خدا کی ہستی کا ثبوت یہ وہی بات ہے جو پہلے دور کے چوٹی کے فلاسفرز کہا کرتے تھے۔جن کا آج کی دنیا میں بھی بڑا اونچا مقام ہے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے۔مثلاً سپائی نوزا Spinoza ایک مشہور جرمن فلاسفر ہے۔اس نے سب سے پہلے Mathematical Calculation سے ثابت کیا تھا کہ خدا کا وجود ہے اور یقیناً ہے کیونکہ حسابی اندازہ یہی بتا تا ہے۔اس کے سوا کوئی بات ہی نہیں بنتی۔کائنات کا کوئی نقشہ ہی نہیں بنتا۔اس نے بڑی زبر دست دلیل دی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ خدا ہے بھی واحد۔کیونکہ اس کے سوا کوئی مخلوق ہمیں ایسی نہیں ملتی جس پر Mathematics کا یہ فارمولا پورا اترتا ہو۔تو وہ ایک ہی ہے جو ہر انرجی کا Source یعنی منبع ہے اور غیر مبدل ہے۔جذبات سے پاک ہے وغیرہ۔جب میں یہ نقشہ پڑھ رہا تھا تو میں حیران رہ گیا کہ اللہ تعالیٰ بعض دفعہ دماغوں کو کیسی جلا بخشتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے صفات باری تعالیٰ پر جو بحث فرمائی ہے اس کے ایک حصہ کو سپائی نوزا) Spinoza اپنی عقلی چلا سے پا گیا۔گو آخر تک نہیں پہنچ سکا بعد میں غلطیاں کر گیا لیکن اس کے حسابی نظریہ کو اب مشاہدات ثابت کر رہے ہیں کہ بنیادی طور پر وہ نظریہ درست تھا حالانکہ اس کے پاس شواہد پیش کرنے کے لئے اس وقت کوئی خاص چیز نہیں تھی صرف ایک حسابی نظریہ تھا۔اب اس کو ثابت کرنے کے لئے شواہدل رہے ہیں۔نظریه ارتقاء درست مگر ڈارون غلط اسی طرح نظریہ ارتقاءEvolution کو دیکھ لیجئے۔شروع کے دور میں یہ نظریہ دنیا کو خدا سے کتنا دور لے گیا تھا لیکن اب موجودہ سائنسدانوں نے جب مزید تحقیق کی تو وہ واپس لوٹنا شروع ہوئے۔ابھی تک ان میں سے بھی ایک بھاری اکثریت یہ نہیں مانتی کہ ہمیں ایک مادی چیز کا سہارا ڈھونڈنے کی ضرورت ہے مگر جو تشریحات وہ پیش کر رہے ہیں اس کا عقلی نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ضرورت ہے۔خواہ وہ اقرار کریں یا نہ کریں ان کا ایک طبقہ کھلم کھلا کہنے بھی لگ گیا۔مثلاً ڈارون کے دور میں ارتقاء کا جو تصور پیش ہوا اس پر لوگوں نے یہ سمجھا کہ اب سارا معاملہ حل ہو گیا۔مذہبی تصورات سارے باطل ہو گئے۔ہمیں اس کی تو جیہات مل گئی ہیں لیکن