مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 95
95 فرموده ۱۹۶۸ء د و مشعل راه جلد دوم دد کرتے وقت ، آپ اپنے اوقات کو دعا سے معمور رکھ سکتے ہیں۔استغفار سے معمور رکھ سکتے ہیں۔استغفار بھی ایک دعا ہے۔جس کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے انسان عاجزانہ پر گزارش کرتا ہے کہ اے ہمارے رب! ایک انسان کی حیثیت سے ہم میں بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔تو ایسا افضل کر کہ ہماری کمزور یوں کو اپنے فضل میں ڈھانپ لے اور اس کے بدنتائج سے ہمیں محفوظ کرلے۔استغفار ہے۔لاحول ہے۔زمیندار کے لئے تو بڑی حسین اور بڑی پر اثر دعا اللہ تعالیٰ نے یہ سکھائی ہے کہ کھیتوں میں ماشاء الله لاقوۃ الا بالله العلی العظیم پڑھا کرو تا کہ تمہاری فصلیں جو ہیں وہ محفوظ رہیں۔اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان کبھی کرے تو تمہارے دل شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہیں۔اس کے نتیجہ میں بڑا ہی سکون قلب پیدا ہوتا ہے۔اور اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اور انسان کا دل اپنے رب کی حمد سے بھر جاتا ہے۔کہ جو کچھ وہ دیتا ہے۔یہ اس کا فضل ، اسکی رحمت اور اس کی عطا ہے۔اس کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ہم اپنے نفسوں میں کوئی ایسی بات نہیں دیکھتے۔کہ ہم خود کو اس بات کا مستحق قرار دیں کہ اللہ تعالیٰ پر یہ فرض عائد ہو گیا ہے کہ ہمارے جیسے انسان پر اپنی نعمتوں کی بارش کرے سب خدا تعالیٰ کی عطا ہے۔اور خدا تعالیٰ ہر ایک سے پیار کا سلوک کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بعض لوگوں کے متعلق یہ فرمایا ہے کہ جب وہ دنیا کی نعمتیں ان لوگوں کو عطاء کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ میرا رب میرے جیسے انسان پر نعمتیں کرنے کے لئے مجبور ہو گیا۔میرے اندر کچھ ایسی خوبیاں تھیں۔کہ خدا کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ میری عزت کو دنیا میں قائم کرے اور ایسے بیوقوف نہیں سمجھتے کہ انسان کا خدا کے ساتھ مقابلہ ہی کیا ہے۔جو اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔وہ اپنے فضل اور رحم سے دیتا ہے۔جب وہ دیتا ہے تو ہماری غفلتوں کو اور کمزوریوں کو اور کوتاہیوں کو اور سستیوں کو پہلے ڈھانپ لیتا ہے۔اپنی مغفرت کی چادر میں۔پھر وہ کہتا ہے کہ اے میرے پیارے بندے! مجھے تیرے اندر خوبیاں نظر آتی ہیں۔تو نے میری نعمتوں کا شکر ادا کیا۔تو نے میرے کہنے کو مانا۔تو نے میری رضا کو دنیا کی ہر چیز پر مقدم کیا۔تیرا دل ہر وقت اس عزم پر تڑپا کہ اس کا سب کچھ میری راہ پر قربان ہو جائے۔اس لئے میں تجھ پر خوش ہوتا ہوں اور اپنی نعمتوں سے تجھے نوازتا ہوں اللہ تعالی بڑا ہی فضل کرنے والا بڑا ہی رحمتیں کرنے والا ہے۔جماعت پر بحیثیت اجتماعی اور جماعت کے افراد پر انفرادی حیثیت میں اللہ تعالیٰ اتنا فضل کر رہا ہے کہ جب انسان ان فضلوں کو دیکھتا ہے تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اگر ساری جماعت ہر تو وقت اور ہر آن اس کا شکر ادا کرتی رہے تب بھی اس کا شکر ادا نہیں ہوسکتا۔یہ کوئی مبالغہ نہیں یہ ایک حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ میرے شکر گزار بندے بنو اور ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر تم میرے شکر گذار بندے بنو گے۔تو میں تمہاری مدد کروں گا۔میں بھی شکور ہوں۔اس شکر کے بدلے میں میری طرف سے مزید نعمتیں پہلے سے زیادہ انعام تمھیں حاصل ہوتے رہیں گے۔ہم جب اپنا وقت اس کی حمد میں خرچ کرتے ہیں۔جب ہم اپنی زندگی کے ہر لحہ کو اس کے حضور دعا کرتے ہوئے معمور رکھتے ہیں جب ہم اس کے لئے اپنے اموال کو خرچ کرتے ہیں۔جب ہم اس کی خاطر اپنی عزتوں کو قربان کرتے ہیں۔جب ہم اس کے لئے اپنے جسمانی آراموں