مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 94
دوم فرموده ۱۹۶۸ء 94 وہ دومشعل قرآن کریم نے بتایا ہو۔اور موقعہ اور محل پر کیا جائے۔جو عمل موقعہ اور محل کے مطابق نہیں کیا جاتا وہ اسلامی اصطلاح میں عمل صالح نہیں ہوتا۔اسی طرح پر جہاں ایک طرف اس زندگی میں بہت سی لچک پیدا کروائی وہاں ہم به ی ذمه داری عائد کر دی کہ دعا کے ساتھ اور فکر اور تدبر کے ساتھ تم صیح نتیجہ پر پہنچو۔کہ ان حالات پر جن میں سے تم گزررہے ہو۔اس وقت اس مقام کے مناسب کون ساعمل ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بتایا ہے۔ایک احمدی نے ایک مسلمان نے اگر حیات طیبہ حاصل کرنی ہو۔تو اس کے لئے یہ ضروری ہے۔کہ و قرآن کریم پر غور کرے اور قرآن کریم نے جو احکام بھی دیئے ہیں ان کے مطابق اپنی زندگی گزرانے کی کوشش کرے۔اور قرآن کریم نے جن باتوں سے روکا ہے۔ان باتوں سے وہ رکے۔قرآن کریم کے کسی حکم کو خواہ وہ منفی ہو یا مثبت یہ کہہ کے ٹالا نہیں جاسکتا۔کہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔بچے بعض دفعہ اس گندی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ حقارت سے دوسروں کے نام رکھتے ہیں۔خدا کہتا ہے کہ ایسا کرو گے میں ناراض ہو جاؤں گا کوئی احمدی نوجوان اپنے ہوش میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اتنی چھوٹی سی بات ہے کہ اگر میں اس پر عمل نہ بھی کروں حرج نہیں ہے۔کیونکہ کوئی ایسی بات جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینی پڑے چھوٹی نہیں ہوتی۔اس میں تو ہمارے دلوں میں کسی قسم کی تسلی کا سامان نہیں کہ اپنے نزدیک جس بات کو ہم نے چھوٹی پایا۔اس بات میں ہم نے خدا کی نافرمانی کی۔اور اس کے غضب کا مورد بن گئے۔پس چھوٹے سے چھوٹا حکم جو ہے۔وہ کرنا ہے۔چھوٹے سے چھوٹا حکم جو کسی بات کو کرنے سے روکتا ہو۔اس کے مطابق ہم نے رکنا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلام کے تمام احکام پر عمل کر کے دنیا کے سامنے اسلام کا ایک زندہ نمونہ پیش نہیں کرینگے۔اسلام کا غلبہ تمام ادیان باطلہ پر ممکن نہیں۔پس اس حقیقت کو اپنے سامنے رکھو۔اور اس حقیقت کے نتیجہ میں جو ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں۔ان ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کرو۔اور اس مقام پر کھڑے ہو کہ ہم بالکل ہی کمزور ہیں۔جب تک اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی طرف سے طاقت عطا نہ کرے ہم میں کسی قسم کی کوئی طاقت کوئی خوبی پیدا نہیں ہوسکتی۔اس لئے ہر وقت دعاؤں میں لگے رہو۔دعا ایک عجیب ہتھیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھ میں دیا ہے۔اگر چہ دعا کے لئے خدا تعالیٰ نے نماز کو صلوٰۃ کو رکھا ہے۔لیکن نفلی دعاؤں کے لئے اس نے کوئی وقت مقر نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان چاہے تو ہر کام کرنے سے قبل اور اکثر کاموں کے کرنے کے دوران میں بھی دعاؤں میں مشغول رہ سکتا ہے۔اور اس کے نتیجہ میں اس کے کام کو نقصان نہیں پہنچے گا۔بلکہ فائدہ پہنچے گا۔بہت سے یہاں زمیندار بچے بھی آتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ زمینداروں میں بھی دو قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ایک وہ جو ہل چلاتے ہوئے۔اپنے بیلوں کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں اور ایک وہ جو ہل چلاتے ہوئے اپنے لئے بھی اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان کو بیل کی یاز مین کی یافصل کی شکل میں دیا ہے اس مال کے لئے دعا ئیں کر رہے ہوتے ہیں۔تو ہل چلاتے وقت، گہائی کرتے وقت ، بیج ڈالتے وقت ، پانی دیتے وقت ، زمیندارہ پر کام