مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 582
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۸۱ء 582 چندہ دینے والے پیدا ہو گئے۔ایک لنڈن میں ہمارے احمدی ہیں۔میرا خیال تھا کہ وہ کچھ ست ہیں۔مجھے پتہ لگا کہ لنڈن کے جو مختلف ، انہوں نے مشن ہاؤس اب خریدے ہیں سنٹر اپنے اس میں اس اکیلے شخص نے سترہ ہزا ر پونڈ دیا۔تو وہ مجھے جلدی پتہ لگ گیا۔ورنہ میری طبیعت میں تھا کہ کبھی میں اس کو نصیحت کروں گا۔تو مجھے کہہ دیتا کہ میں تو دے رہا ہوں تو مجھے سبکی اٹھانی پڑتی نا۔غلط سمجھ کے اس کے متعلق۔تو یہ دو چیزیں (میں نے بتایا ہے پہلے بھی ) ضروری نہیں ایک جیب میں پیسہ ہو ایک دل میں اخلاص اگر جیب میں پیسہ نہ ہو تو کہاں سے دے۔اور اگر پیسہ ہو اور اخلاص نہ ہو تو کیسے د۔مبغلین کو نصیحت یہ جو ہیں نا ہمارے مبلغ ( کچھ یہاں ہیں) یہ مجھے بڑا تنگ کرنے لگ گئے ہیں۔اچھا ہے وہ کوئی پانچ۔دس۔پندرہ۔میں کو نکال دیا جائے بجائے اس کے کہ سارے مبلغوں پر بدنامی کا دھبہ لگے۔یعنی اب جامعہ احمدیہ کا ایک طالب علم اور چوری کی اس کو عادت اور جھوٹ کی عادت۔میرے پاس آیا معافی کے لئے اور جھوٹ بول رہا تھا مجھ سے۔پہلے دو فقروں میں ہی میں سمجھ گیا کہ یہ شخص اب میرے ساتھ جھوٹ بول رہا ہے۔میں بالکل خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہا۔آخر وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ ان سے کہیں جامعہ کو کہیں کہ مجھے بیٹھنے دیں کلاس میں۔میں نے کہا یہ سوال نہیں ہے کہ تمہیں بیٹھنے دیں یا نہ۔سوال یہ ہے کہ تمہارا وقف تو ڑیں یا نہ توڑیں۔اور پھر باہر جا کے جھوٹ۔یہ تو یوں تھا اور وہ دوں تھا۔اب میں نے یہ بنا دیا ہے (مجھے پھر خیال آیا بہر حال جماعت کو بدظنی سے بچانا بھی تو میرا کام ہے نا) وہ کورٹ مارشل (Court Martial) دس۔پندرہ۔میں آدمیوں کے سامنے اس کی رپورٹ پڑھی جائے۔اب میں نے اسی کے متعلق ( گوجرانوالہ کا تھاوہ) کہ گوجرانوالہ کے امیر کو بلاؤ کورٹ مارشل میں۔وہاں کے مبلغوں کو بلاؤ۔اس کے باپ کو بلاؤ۔صدر عمومی کو بلاؤ۔امور عامہ کو بلاؤ تحریک کو بلاؤ۔اصلاح وارشاد کو بلاؤ۔ساروں کے سامنے اور پھر جامعہ بتائے کہ یہ کیس ہے اس لڑکے کا۔بتاؤ کیا کہتے ہو؟ سب نے کہا کہنا کیا ہے۔نکالو اس کو باہر۔پھر کہے اگر مجھے انہوں نے نکالا تو پھر گوجرانوالہ سے کوئی لڑکا جامعہ میں نہیں آئے گا۔مجھے جس نے کہا میں نے کہا اس کو کہو کہ اگر تمہارے جیسے لڑکے گوجرانوالہ نے پیدا کرنے ہیں تو اچھا ہے نہ آئیں۔مجلس عاملہ کو نصائح ویسے ہر جگہ بڑے مخلص بھی دے رہا ہے ہمیں۔اور یہ جو نئی نسل پیدا ہورہی ہے ان میں اچھے برے ہیں بہت زیادہ اچھے ہیں لیکن یہ ہے کہ ایک تو جو افسر ہے ذمہ دار اُس کا فرض ہے کہ چھوٹا سا داغ پن پوائنٹ Pin) Point) کے مطابق ہے اُسی وقت اس کو پکڑے بجائے اس کے کہ آدھا سیب خراب ہو جائے۔پھر تو وہ پھینکنے کے