مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 581
581 فرموده ۱۹۸۱ء ہو جائیں۔د و مشعل راه جلد دوم دو خدام الاحمدیہ کی قربانی سے مساجد کی تعمیر برازیل جو ہے اس پہ کچھ وقت لگے گا۔جگہ کے انتخاب پھر زمین کے انتخاب بہت سارا وقت۔ایک سال یا دو سال پیچھے ڈالی جاسکتی ہے۔اٹلی کی اگر مسجد بن جائے تو پھر عملاً صرف فرانس رہ جاتا ہے۔اس کے لئے میں کوشش کر رہا ہوں۔اگلے سال میرا خیال ہے کہ خود اس علاقے میں جائے پھر کے تو ان کو بتا دوں کہ اس جگہ تلاش کریں۔مشکل یہ ہے کہ جو میں بات کہتا ہوں وہ انہیں سمجھ ہی نہیں آتی۔میں کہتا ہوں مجھے جنگل میں چاہیئے۔وہ مجھے رپورٹ دیتے ہیں کہ ہم نے شہر کے اندر ایک جگہ پانچ گز کی ڈھونڈ لی ہے۔بہر حال ویسے جو قربانی دی ہے ایک نوجوان نے (بہت سارے کمزور بھی ہیں۔وہ تو رہتے ہی ہیں ساتھ۔ٹھیک بھی ہوتے جاتے ہیں ساتھ ساتھ ) وہ بڑی امید افزاء ہے۔یعنی جان پڑی ہے پہلی دفعہ اتنی۔مالی قربانی کے معیار کی طرف توجہ ایک تو ظلم یہ ہوا ہے کہ وہاں جو ہمارے مبلغ گئے ہیں باہر لئیق صاحب سمیت انہوں نے کوئی تربیت نہیں کی احمدیوں کی یعنی ان کو پتہ ہی نہیں تھا۔یعنی افریقہ کے احمدیوں کو جلدی پتہ لگ گیا کہ ہم نے مالی قربانی دینی ہے اور پاکستانی احمدی جو امریکہ میں ہے یا انگلستان میں ہے اس کو نہیں پتہ لگا کہ ہم نے مالی قربانی دینی ہے۔بڑا ظلم ہوا ہے۔اب یہ پہلی دفعہ اُن کو جس طرح پکڑ کے لایا جاتا ہے اور پھل پھر آدمی حاصل کرتا ہے۔درخت سے وہ حالت پیدا ہوئی ہے۔اتنی خدا نے رزق میں برکت دی کہ میں سوچ رہا تھا کہ اگر صرف امریکہ کے ایک حصے کے احمدیوں کا ایک حصہ شرع کے مطابق چندہ دے تو جو میں نے اعلان کیا ہے کہ ایک ملین قرآن کریم انگریزی کے ترجمے والے امریکہ میں پھیلائے جائیں یہ چھ مہینے کے اندر ہو سکتا ہے لیکن یہ بڑی کمزور دکھائی ہے پتہ نہیں کیوں۔بہر حال وہ جو ہونا تھاوہ تو ہو گیا پیچھے کسی کو دیکھنا ہی نہیں چاہیئے۔میری تو عادت نہیں۔میں تو آگے دیکھا کرتا ہوں۔اب یہ سوال کہ جو وہاں خدام میں پہلی دفعہ عادت پڑی ہے نا اس طرح دینے کی اس کو بھولنے نہیں دینا ان کو۔ایک دفعہ حضرت صاحب سے ( حضرت مصلح موعود موعود نوراللہ مرقدہ۔ناقل ) سے کسی نے پوچھا کہ اتنی جماعت مالی قربانی دینے والی ہے۔آپ ہر دو چار سال کے بعد کوئی نئی سکیم پیش کر دیتے ہیں اور طوعی قربانیاں، نیم طوعی۔آپ نے کہا ان کو جماعت کو زندہ رکھنے کے لئے۔اس کے علاوہ چارہ ہی کوئی نہیں۔اب وہ جو دو آنے چار آنے دے کے ابدی دعاؤں کے حقدار بن گئے حضرت اقدس مسیح موعود نے اپنی کتابوں میں ان کا نام لکھ دیا۔چندہ لکھ دیا دو آنے چار آنے پانچ آنے آٹھ آنے روپیہ۔اب ان کی اولادوں میں سے ۲×۵ ہزار پونڈ