مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 309
د دمشعل راه جلد دوم ہوسکتا۔فرموده ۱۹۷۲ء 309 ایک غیر مسلم کو ایک بار کلمہ پڑھا کر مسلمان کیا جاسکتا ہے۔لیکن ایک دن میں سود فعہ کلمہ پڑھ کر انسان کا فر بن جاتا ہے؟ یہ سراسر غیر معقول اور متضاد بیان ہے۔اور متضاد بیان نامعقول اور نا قابل تسلیم ہوتا ہے۔یہ اللہ کا فضل ہی ہے کہ جماعت احمدیہ پر جو بھی اعتراض کیا جاتا ہے وہ معقول نہیں ہوتا۔بلکہ متضاد اور نامعقول ہوتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ بڑے فضل کر رہا ہے۔ہمارے کاموں میں ہر لحاظ سے وسعت عطا کر رہا ہے۔مال میں بھی برکت دے کر اور نفوس میں بھی برکت دے کر ترقی عطا کر رہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ میری جماعت کے گھروں کو برکت سے بھر دے گا۔ہر احمدی کا سب سے پیارا اور محبوب گھر تو اللہ کا گھر ہے۔جسے اللہ نے اپنے فضل سے ہمارے لئے بنایا ہے۔یعنی اللہ کے ذکر کو بلند کرنے والی مساجد متضرعانہ دعاؤں کی آواز سے معمور ہوں تو اس میں ہمارے لئے برکت ہی برکت ہے۔احمدیوں کی دعائیں بڑی کثرت سے قبول ہوتی ہیں۔اسی طرح آپ علیہ السلام یہ بھی فرماتے ہیں۔میری جماعت میں بڑی کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو زندہ خدا کے زندہ نشانات دنیا کے سامنے رکھنے والے ہیں۔مردوں میں بھی اور عورتوں میں بھی۔بڑوں میں بھی اور بچوں میں بھی۔بچوں کو ان کی عمر اور ان کے مجاہدہ کے لحاظ سے اور ان کی سمجھ کے مطابق اللہ تعالیٰ کچی خوا میں دکھاتا ہے۔یہ بڑا نمایاں نشان ہے۔یہ تو آپ کی کلاس کا مختصر جائزہ تھا۔اب جو سبق آج میں آپ کو دینا چاہتا ہوں۔وہ ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔یعنی یہ کہ ہمارے بنیادی عقائد کیا ہیں۔ایک مسلمان احمدی کی حیثیت میں یعنی طفل یا خادم یا انصار کی حیثیت میں ہمارے عقائد کیا ہیں۔ان میں کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔شیطانی وسوسہ نہیں پیدا ہونے دینا چاہیئے۔ہمارا پہلا عقیدہ ہمارا پہلا عقیدہ خدائے واحد و یگا نہ پر ایمان ہے جس کو اسلام نے اللہ کی حیثیت میں پیش کیا ہے۔اسلام کہتا ہے اللہ پر ایمان لاؤ اور اللہ کے معنی اور تعریف خود قرآن کریم نے بیان کی ہے۔سورہ الحمد سے تو حید کا بیان شروع ہوا اور والناس تک چلتا چلا گیا ہے۔مختلف مضامین اور مختلف ابواب ہیں جن میں مختلف پیرایوں میں مختلف زاویوں سے مختلف پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے۔لیکن یہ ایک بنیادی فکر یا بنیادی حقیقت کا بیان ہے یعنی تو حید باری تعالیٰ کا بیان جو قرآن کریم میں شروع سے ہو کر آخر تک چلا گیا ہے۔غرض ہم اس اللہ پر ایمان لائے ہیں جس نے اس عالمین اس یونیورس (Universe) کو پیدا کیا ہے۔یعنی جو مخلوق ہے وہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔