مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 310
310 فرموده ۱۹۷۲ء الحمد لله رب العلمين د و مشعل راه جلد دوم اللہ وہ ہے جو رب ا العلمین ہے۔ربوبیت کا سارا کام اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔اللہ وہ ہے جو رحمن ہے۔اللہ وہ ہے جو رحیم ہے۔اللہ وہ ہے جو مالک یوم الدین ہے۔اللہ وہ ہے جو قادر مطلق ہے اللہ وہ ہے جو رزق دینے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں تو بے شمار لیکن ہماری دنیا سے تعلق رکھنے والی جو صفات ہیں وہ قرآن کریم نے بیان کی ہیں ان میں سے ہر صفت کے اوپر ہمیں غور کرنا چاہیئے۔اور کسی صفت سے ادھر ادھر نہیں جانا چاہیئے۔یعنی ہر وہ صفت جو اللہ تعالیٰ کی قرآن عظیم میں بیان ہوئی ہے۔اس سے ادھر ادھر نہیں جانا چاہیئے۔ورنہ تضاد پیدا ہو جاتا ہے مثلاً قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رزق دیتا ہوں۔تم ایک دوسرے کے رزاق نہیں ہو۔یہ ایک بنیادی حقیقت ہے اور توحید کا ایک حصہ ہے۔خدائے واحد ویگا نہ اللہ رب العالمین ہی رزاق ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک جگہ فرمایا - أَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَارِعُون - (الواقعہ: ۶۵) گویا رزق دینا اللہ کا کام ہے۔اس واسطے کوئی مؤخد حصول رزق کے لئے ان راہوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوگا۔جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔اور جنہیں اللہ تعالیٰ حرام اور ممنوع قرار دیتا ہے۔کوئی حقیقی موحد خدائے واحد دیگا نہ پر حقیقی معنی میں ایمان لانے والا رشوت کی راہ سے مال نہیں کمائے گا۔رشوت بھی ایک طرح رزق دیتی ہے لیکن اللہ کہتا ہے رشوت نہیں لینی۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ رشوت کے بغیر گزارا نہیں۔وہ بالفاظ دیگر یہ کہہ رہا ہے کہ خدا کامل طور پر رازق نہیں۔اس واسطے اللہ کے علاوہ اپنے مال میں برکت پیدا کرنے کے لئے کسی اور راہ کی تلاش کرتا ہے۔یہ غلط ہے۔پھر تم خدا تعالیٰ پر ایمان نہ لاؤ۔تو حید جس کے معنی میں صرف خدا ہی رزاق سمجھا گیا ہے اس اعتقاد کے بعد پھر رشوت کی راہ کو اختیار کرنا اعتقاد اور عمل میں تضاد ہے۔اور ہر تضاد نا معقول ہے۔یعنی ایک ہی وقت میں یہ کہنا کہ اللہ تعالی رزاق بھی ہے اور رشوت کے بغیر گزارہ بھی نہیں، یہ تضاد ہے۔یہ توحید سے انحراف اور بعد اور دوری کا نام ہے۔رشوت لینا یا چوری کرنا یا تول کے وقت بعض تاجر ڈنڈی کو اس طرح ہلا دیتے ہیں کہ دیتے ہوئے دوسیر کی بجائے ایک سیر اور چودہ چھٹانک خریدار کو مل جائے۔یا لیتے وقت دوسیر کی بجائے دوسیر دو چھٹانک خود کو مل جائے۔تول میں ہوشیاری کے ساتھ بددیانتی کرتے ہیں۔نظر آ رہا ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے لیکن ہونے دیتے ہیں ب ایک وقت میں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو رزاق سمجھنا اور تول کی بددیانتی پر اپنے رزق کا انحصار سمجھنا یہ دو متضاد باتیں ہیں اور تو حید باری تعالیٰ کے خلاف ہیں۔ایک ہی وقت میں اللہ تعالیٰ کو نعمتوں کا دینے والا اور علم کا سکھانے وال سمجھنا اور اسی وقت میں امتحان کے پرچے میں نقل کرنا۔یہ توحید کے خلاف ہے۔اور تضاد ہے۔یا تو نقل مارنے میں برکت ہے یا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے میں برکت ہے۔کہ وہی فراست دیتا ہے۔اور وہی اچھے نتائج نکالتا ہے۔دونوں باتیں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔میں اپنے ذاتی تجربہ کی بناپر علی وجہ البصیرت کہ سکتا ہوں کہ ایک لڑکا بڑا ہوشیار ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اسے عقل اور سمجھ دی ہوتی ہے۔اور اس کو تو فیق ملتی ہے کہ وہ محنت کرے۔غرض وہ بڑا اچھا ہوتا ہے۔لیکن ایک وقت تکبر کا شیطان اس کے دماغ میں گھستا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید سے اسے پرے