مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 308
308 فرموده ۱۹۷۲ء د مشعل راه جلد دوم لاتزكوا انفسكم هوا علم بمن اتقى (النجم: ۳۳) یعنی اپنے آپ کو پاک قرار دینا اور تقویٰ اور طہارت کا حکم لگا ناممنوع قرار دیا گیا ہے۔یہ میرا یا آپ کا کام نہیں ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کے جو فضل ظاہری طور پر اور نمایاں طور پر دنیا کے سامنے آتے ہیں۔دنیا اس کو پسند کرے یا نہ کرے ان کی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ حقائق کو جھٹلا ناڈھیٹ آدمیوں کا کام ہے۔دوسرے ساری دنیا ڈھیٹ نہیں ہے۔تیسرے حقائق کو جھٹلاتے چلے جانا ایک ڈھیٹ آدمی کی استعداد سے بھی باہر ہے۔آج نہیں تو کل اس کو ماننا پڑے گا۔ایک طریقے سے اگر وہ انکار کرتا ہے تو دوسرے طریقہ سے اسے ماننا پڑتا ہے۔آپ کو سمجھانے کے لئے میں ایک تازہ مثال دیتا ہوں۔بعض لوگ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ سارا پاکستان احمدیوں کو کافر کہتا ہے احمدیوں سے نفرت کرتا ہے اور احمدیت سے بغض رکھتا ہے۔اور احمدیت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کو تیار ہے۔ایک تو اس قسم کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑتی ہیں اور دوسرے یہ آواز ہمارے کان میں پڑی کہ لائکپور میں جہاں ضمنی انتخاب ہوا ہے؟ پیپلز پارٹی اس لئے جیت گئی کہ وہاں جماعت ان کا کام کرنے کے لئے آ گئی۔اگر پاکستان کی اکثریت جماعت احمدیہ سے نفرت کرتی اور بیزاری کا اظہار کرتی ہے اور عداوت سے ان کے دل بھرے ہوئے ہیں اور وہ احمدیت کو مٹانے کے لئے تیار ہیں تو احمدیوں کے کہنے پر وہ پیپلز پارٹی کو ووٹ کیسے دے سکتے ہیں۔ان دو باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔باہمی تضاد رکھتی ہیں۔عقلاً یاد نیا ہم سے نفرت کرتی ہے اور ہمارے کہنے پر ووٹ نہیں دے گی۔یا پھر دنیا ہم سے نفرت نہیں کرتی اس لئے ہمارے کہنے پر ووٹ دے دیتی ہے۔میں یہ نہیں کہتا۔( آپ اپنے ذہنوں میں ہر دو باتوں کا فرق سوچ لیں ) کہ ہمارا وہاں کتنا اثر پڑا ہے۔میں یہ کہتا ہوں کہ ہمارے مخالف کے بیان میں تضاد ہے اور متضاد ہونے کی وجہ سے نا معقول بھی ہے۔کیونکہ کوئی متضاد بیان معقول نہیں ہوسکتا۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ایک ہی وقت میں سورج بھی نکلا ہوا ہے۔اور اندھیری رات بھی ہے تو یہ متضاد اور بڑا نا معقول بیان ہوگا۔کوئی سادے سے سادہ عقل بھی اسے تسلیم نہیں کرے گی۔بلکہ میرا خیال ہے کہ اسی فیصد پاگل بھی اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔آخر جنون کی بھی تو مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔پس اس وقت ہمارا مخالف جو بیان دے رہا ہے وہ متضاد اور نا معقول ہے۔اس سے ہر عقل مند اس نتیجہ ہے پہنچتا ہے کہ ان کے ذہن دھندلائے ہوئے ہیں۔ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔کیا کہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھتے تو ہیں لیکن انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔احمدی ساری دنیا میں محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا کر غیر مسلم کو احمدی مسلمان بھی بنا رہا ہے اور خود ” کا فر“ بھی ہے۔کیا نا معقول بات ہے۔اگر احمدی کا فر ہے تو پھر حمدی محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا کر غیر مسلم کومسلمان نہیں بنائے گا۔اور اگر احمدی محمد ﷺ کا کلمہ پڑھا کر ایک عیسائی کو ایک مشرک کو ایک دھریہ کو ایک بت پرست کو مسلمان بناتا ہے تو پھر وہ کافر نہیں