مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 224 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 224

مشعل راه جلد دوم اور قبول کی جائیگی۔فرموده ۱۹۷ء 224 اعتماد، بھروسہ اور یقین سے لبریز دعا کا ہماری پسماندگی کی موجودہ حالت کے دور ہونے سے گہرا تعلق ہے۔آپ اور ہم اور اسی طرح ایشیا اور افریقہ کی دوسری قوموں پر علمی پسماندگی کا اعتراض وارد کیا جاتا ہے لیکن نہ آپ اور نہ ہم سدا علمی پسماندگی کا شکار رہے ہیں۔ماضی میں ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ہم ہی ترقی یافتہ شمار ہوتے تھے۔اپنی ترقی کے اُس دور میں ہم نے نہ صرف الہیات کا عرفان حاصل کرنے میں دنیا کی رہنمائی کی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی دی ہوئی توفیق سے مادی علوم میں بھی ہم نے دنیا کی راہبری کا فرض خوش اسلوبی سے ادا کیا۔ہماری ترقی اور عروج کا وہی زمانہ اب پھر لوٹ کر آنے والا ہے۔آپ کے اور ہمارے لئے ایک دفعہ پھر روحانی اور مادی علوم کا مشعل بردار بننا مقدر ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو ہم میں سے وہی لوگ جو قدرتی وسائل و ذرائع اور قدرت کے وضع کردہ طریقوں کو جو ہم کو اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کئے گئے ہیں۔دعا سے متحد کر دکھا ئیں گے یعنی جو علمی ترقی کی مادی کوششوں پر ہی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ ساتھ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قادرانہ تصرف فضل اور رحمت پر ایمان لا کر اور اس بارہ میں یقین سے مالا مال ہو کر دعا کے ذریعہ آسمانی مدد اور راہنمائی کے طالب ہوں گے وہی لوگ ترقی کے میدان میں پہلے سے کہیں بڑھ کر تیز رفتاری کے ساتھ آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں گے اور دنیا کے رہبر و راہنما ثابت ہوں گے۔وہ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کے بارہ میں کوئی مغالطہ نہیں ہوگا۔وہ ہر گز ایسے خود سر نہیں ہوں گے کہ ہر بات کو اپنی ہی طرف منسوب کر کے یہ دعوی کریں کہ انہوں نے اپنی طاقت اور اپنی صلاحیت کے بل پر سب کچھ کیا ہے۔وہ عاجزی اور انکساری کے اوصاف سے متصف ہوں گے۔وہ نہ خود تباہی کی سمت میں قدم اٹھائیں گے اور نہ دوسروں کو تباہی کی طرف لے جانے والے ہوں گے۔برخلاف اس کے وہ تو دوسروں کو اس تباہی سے بچانے اور محفوظ کرنے والے ہوں گے جس کے غار میں حصول علم کی اندھی اور بے لگام جد و جہد کا ہم سب کو دھکیل دینا یقینی ہے۔قرآن مجید کا ایک تاکیدی حکم اور اس کی حکمت بعض اور باتیں بھی ہیں جن پر غور کرنے کی میں آپ کو دعوت دینا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید میں بار بار توجہ دلائی ہے کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اس پر پوری توجہ کے ساتھ غور کرتے رہیں۔اس کا منشاء یہ ہے کہ ہم خود اپنے وجود اپنے بے حیثیت آغاز اپنی ہر آن بڑھتی ہوئی امنگوں اور خواہشات اپنی زندگی اور اپنی موت اور اگلے جہان کی غیر محدود حیات پر غور کریں اور ہمیشہ ان تمام امور کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے رہیں۔مدعا اور مقصد یہ ہے کہ ہمارے خصوصی مفادات کچھ ہی تقاضا کریں اور ہمارے مطالعہ اور دریافت کی مخصوص راہیں خواہ کوئی ہوں ، ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ماحول اور ارد گرد کی اشیاء سے خواہ وہ انسان ہوں یا جانور پرندے ہوں یا بے جان مادی چیزیں ہم ان سے بیگانہ اور لاتعلق نہ رہیں۔مشہور مقولہ ہے کہ اچنبہ اور