مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 225 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 225

225 فرموده۰ ۱۹۷ ء د و مشعل راه جلد دوم دد استعجاب علم کی کنجی ہے۔ہمیں اپنے ہم جنس بنی نوع انسان کے مفادات اور ان کی امنگوں اور خواہشات سے کسی حال میں بھی بے رخی نہیں برتنی چاہیئے۔ہمیں ان ذمہ داریوں اور فرائض سے ہمیشہ باخبر رہنا چاہیئے۔جو انفرادی سطح پر باہمی تعلقات کے ضمن میں نیز اجتماعی سطح پر بنی نوع انسان کے مجموعی مفادات کے ضمن میں اور ہم سب کے خالق و مالک کے حقوق یعنی حقوق اللہ کے ضمن میں ہم پر عائد ہوتے ہیں۔اگر ہم اس صاف اور سیدھی سی بات کا خیال رکھیں اور اس بارہ میں پوری احتیاط سے کام لیں تو ہم ان تمام خطرات سے جو پر مسرت اور خوشحالی کی بھر پور زندگی کو لاحق ہیں اور جو تہذیب نو کے سر پر منڈلا رہے ہیں بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور تخلیق کائنات کے عظیم مقصد سے ہم آہنگی ہمیں نصیب ہو جائیگی۔ہمیں سوچنا اور غور کرنا چاہیئے کہ ہم ہیں کیا اور ہماری ہستی کیا ہے؟ ہم اللہ تعالیٰ کی عاجز مخلوق ہی تو ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے محدود اختیارات سونپے گئے ہیں اور جو جز وی طور پر آزاد پیدا کی گئی ہے۔اس عاجز مخلوق (یعنی انسان ) کو اس غرض کو پورا کرنا چاہیئے جس غرض کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے اور وہ یہی ہے کہ وہ اپنے خالق کے حضور کمال عاجزی اور تذلیل کے ساتھ جھکے۔اگر ہم اپنے ماحول اور گردو پیش سے تخلیق کائنات کے عظیم مقصد سے اور اپنے خالق سے باخبر ہو جاتے ہیں اور ان سب سے آگاہی حاصل کر لیتے ہیں تو پھر اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ ہم دنیا میں اس طرح زندگی نہ بسر کریں کہ گویا ہمیں اس امر کا کوئی احساس ہی نہ ہو کہ یہاں دوسرے لوگ بھی موجود ہیں یا یہ کہ ظلم کے ہمارے اپنے میدان کے علاوہ بعض اور میدان بھی ہیں یا یہ کہ ہماری پیدائش اور ہمارے وجود کی کوئی علت غائی بھی ہے۔یعنی یہ کہ رضائے الہی کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کر کے خدا سے صلح کرنا۔ایسی صورت میں تو ہمیں بدرجہ اولی ان سب باتوں کا پورا پورا احساس ہونا چاہیئے۔جدید سائنسی علوم کی ظاہری واقفیت بھی اچھا اثر پیدا کئے بغیر نہیں رہتی۔تمام سائنسی علوم ہم پر اللہ تعالیٰ کی صفت خلق میں کارفرما مقصدیت اور معنویت کو واضح کرتے ہیں۔بایں ہمہ سائنس سائنس میں بھی فرق ہوتا ہے۔ایک فرق یہ ہے کہ بعض سائنسی علوم نسبتا زیادہ خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں اور بعض میں نسبتا زیادہ عمومیت پائی جاتی ہے۔زیادہ عمومیت کے حامل وہ سائنسی علوم ہوتے ہیں جو انسان پر بحیثیت مجموعی بحث کرتے ہیں۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایسے سائنسی علوم میں آپ کو زیادہ دلچسپی لینی چاہیئے اور ان کے مطالعہ کی طرف آپ کو زیادہ راغب ہونا چاہیئے۔کیونکہ یہ علوم آپ کو اُس علت غائی اور مقصد کے زیادہ قریب لے جانے والے ہیں جس سے ہماری زندگی میں معنویت پیدا ہوتی ہے اور اس زندگی کی اہمیت ہم پر آشکار ہوتی ہے۔لہذا علوم کے ایسے میدانوں میں آپ کے لئے زیادہ جاذبیت ہونی چاہیئے اور ان کے مطالعہ کی طرف آپ کو زیادہ سے زیادہ توجہ دینی چاہیئے۔حياة الآخرة کا عقیدہ اور علمی ترقی پر اس کا اثر ہمارا علوم جدیدہ کی رسمی اور روایتی تقسیم سے زیادہ متاثر ہونا سود مند نہیں ہے۔ہمیں ان علوم کا اپنے مخصوص