مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 353
راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۲ء 353 دومشعل یا اپنے زمانے اور اپنے حلقے میں اپنے دوستوں اور بزرگ علماء کی آرا پہن کر ان سے ایک نتیجہ نکالا ہے۔پس وہ میرا یا آپ کا علم نہیں ہے وہ یا تو کتاب لکھنے والے کا علم ہے یا کتاب پڑھانے والے کا علم ہے جو ہم تک آنکھ یا کان کے ذریعہ پہنچا ہے۔یعنی یا خود کتاب پڑھی یا استاد کا لیکچر سنا۔تاہم آنکھ اور کان کے علاوہ اور بھی تو ظاہری اور باطنی حواس ہیں جو حصول علم کا ذریعہ اور وسیلہ بن سکتے ہیں اور بنتے رہے ہیں اس لئے تعلیم کے حصول کا سارا انحصار سکول یا کالج کی پڑھائی پر نہیں ہونا چاہیئے۔علاوہ ازیں جامعہ احمدیہ کی پڑھائی میں بھی بعض دفعہ یہ خرابی پیدا ہو جاتی ہے کہ بالکل تھوڑا سا علم حاصل کرنے پر (جو سارے علم کا شائدہ ۱/ حصہ بھی نہیں ہوتا ) غرور پیدا کر کے بعض لوگ اپنے آپ کو عالم کہلانے لگ جاتے ہیں۔مثلاً جامعہ میں اگر کسی آدمی نے صحیح بخاری پڑھی یا کسی نے بخاری پڑھائی تو یہ علم بھی گویا آنکھ اور کان کے دو ظاہری حواس کے ذریعہ حاصل ہوا۔حالانکہ اور بھی کئی ظاہری حواس ہیں جن کے ذریعہ علم حاصل ہو سکتا ہے اور اس لحاظ سے بھی یہ علم ادھورا ہے۔پس علم کا پہلا ذریعہ اور وسیلہ اور اس کا پہلا مرحلہ ( علم کو اگر ہم وسیع معنوں میں لیں تو ظاہری حواس سے جاننا ہے۔چنانچہ ہم اکثر چیزوں کو ظاہری حواس سے جانتے اور معلوم کرتے ہیں۔آپ اس ماحول ہی کو لے لیجئے۔میری آنکھ مجھے صرف یہ بتاتی ہے کہ میرے سامنے اس وقت کئی ہزار انسان بیٹھے ہیں۔پس جہاں تک ظاہری حواس میں سے آنکھ کا تعلق ہے اس نے اس اجتماع میں اس کے سوا اور کچھ نہیں بتایا کہ کئی ہزار نو جوان ( اور کچھ بڑی عمر کے دوست بھی ہیں ) میرے سامنے بیٹھے ہیں یا پھر میری آنکھ نے یہ بھی بتایا کہ بہت تھوڑے خدام ہیں جنہوں نے اپنا نیا نشان اپنے گلے میں لڑکا یا ہوا ہے۔پھر آپ نے جب اپنا عہد دہرایا یا جب آپ کے صدر صاحب نے میرے سامنے آپ کی حاضری کی رپورٹ پیش کی تو میرے کان نے یہ بتایا کہ میرے سامنے جو مجمع بیٹھا ہوا ہے اس کا تعلق خدام الاحمدیہ سے ہے۔پس آنکھ اور کان نے اس سے زیادہ کچھ نہیں بتایا۔چنانچہ ان دونوں ظاہری حواس سے ہمیں جو علم حاصل ہوتا ہے اسے علم بسیط بھی کہا گیا ہے۔اس میں اور بہت ساری چیز نیں بھی شامل ہیں۔لیکن اس چکر میں جہاں تک علم کا تعلق ہے وہ صرف ظاہری حواس کے ذریعہ چیزوں کے جاننے یا معلوم کرنے کو کہتے ہیں۔علم کا دوسرا مرحلہ غور و فکر پھر قرآن کریم نے جس دوسری چیز کا ذکر کیا ہے یعنی علم کے بعد جو دوسرا مرحلہ آتا ہے وہ غور و فکر کرنے کا مرحلہ ہے۔فکر ایک قوت ہے جو بیرونی علم یعنی ظاہری حواس کے ذریعہ جو کچھ معلوم کیا جاتا ہے اس سے نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتی ہے۔اسی لئے مفکر اس شخص کو کہتے ہیں جو علم بسیط کو بروئے کار لاتا اور مختلف چیزوں کو باہم جوڑ کر اُن سے ایک نتیجہ نکالتا ہے۔مثلاً بہت سارے خدام کو ظاہری حواس کے ذریعہ دین کا ایک نہ ایک نکتہ معلوم ہوا اس سے ہماری فکر نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جماعت احمدیہ کے نمائندہ نوجوان آج کے اس اجتماع میں خلوص نیت کے ساتھ دین کا علم سیکھنے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔اب خلوص نیت ظاہری علم کے ساتھ تو معلوم نہیں ہوسکتا۔اس کا تو کا