مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 352
352 فرموده ۱۹۷۲ء د مشعل راه جلد دوم ہے۔کہنے کو تو مثلاً ایک بھیڑ کے پیٹ میں جو دو ہفتے کا بچہ ہے اور صرف ایک لوتھڑے کی شکل کا ہوتا ہے وہ بھی بھیڑ کا بچہ ہی ہوتا ہے لیکن اگر وہ وہیں کھڑا ہو جائے اور اس کو پوری نشو ونما نہ ملے تو وہ ایک گندی اور عفونت والی چیز ہے آپ اس کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کریں گے۔لیکن وہی چیز جب نشو و نما پا جائے گی اور بھیڑ کا بچہ بنے گی اور پھر جب وہ سال کا ہو جائے گا، چربی اس پر چڑھی ہوئی ہوگی تو آپ اس کو کتنے شوق سے کھا رہے ہوں گے۔حالانکہ اس کو آپ ایک سال اور چند مہینے پہلے ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھے۔پس جب تک کوئی کام اپنے کمال کو نہیں پہنچتا، نہ اس میں کوئی حسن پیدا ہوتا ہے اور نہ اس میں کوئی افادیت پیدا ہوتی ہے۔علم ،فکر اور عقل قرآن کریم نے علم کے متعلق مختلف الفاظ بیان کئے ہیں۔ایک ”علم“ کا لفظ استعمال کیا ہے۔دوسرے فکر کا لفظ استعمال کیا ہے تیسرے عقل کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ ایک سلسلہ ہے جو علم وفکر اور عقل و تدبر پر نل ہے۔لیکن جب ہم علم کے حصول کیلئے یا علم کو پھیلانے کیلئے روحانی جد وجہد کرتے ہیں تو ایمان اور عمل صالح کا سہارا لینا پڑتا ہے۔یہعلم کا ایک اور سلسلہ ہے جس کے متعلق قرآن کریم کہتا ہے:۔انما يخشى الله من عباده العلماء (فاطر: ۲۹) اس میں علم اور فکر کی بجائے شعور اور عرفان کا ذکر ہے۔تاہم پہلے میں اس حسین سلسلہ یا چکر کے متعلق کچھ کہوں گا جو علم سے شروع ہوتا ہے جس میں علم سے فکر کی طرف حرکت، فکر سے عقل کی طرف حرکت اور عقل سے پھر علم کی طرف حرکت ہوتی ہے۔پھر علم سے فکر کی طرف حرکت، پھر فکر سے عقل کی طرف حرکت اور پھر عقل سے علم کی طرف حرکت ہوتی ہے۔غرض یہ ایک بڑا لطیف چکر ہے جو چلتا رہتا ہے۔علم کے معنے ہوتے ہیں کسی چیز کے متعلق ظاہری حواس سے ( مثلا کان سے سن کر یا آنکھ سے دیکھ کر یا ہاتھ سے چھو کر یا زبان سے چکھ کر ) معلوم کرنا اور جاننا۔غرض ظاہری حواس سے ہم بہت کچھ حاصل کرتے ہیں اور جہاں تک دیکھنے اور سننے سے علم کے حصول کا تعلق ہے، اس میں کتابوں کا پڑھنا یا ان کا سنا شامل ہے۔چنانچہ جو علم ظاہری حواس سے حاصل کیا جاتا ہے اس علم کا بھی صرف ایک حصہ درسی کتب کے مطالعہ پر مشتمل ہے۔یعنی اس علم کے ایک حصہ کے ساتھ ہمارے تعلیمی اداروں کا تعلق ہے۔پھر جہاں تک تعلیمی اداروں کا تعلق ہے ایک ہمارا جامعہ احمدیہ ہے جس میں دینی کتب پڑھائی جاتی ہیں۔دوسرا تعلیم الاسلام کالج ہے۔جس کے نصاب میں دیگر درسی کتب شامل ہیں۔مثلاً سائنس کے مضامین کیلئے فزکس کیمسٹری، باٹنی، زوالوجی اور حساب کی کتابیں ہیں۔پھر اسی طرح آرٹس کے مضامین مثلاً اقتصادیات اور سیاسیات وغیرہ ہیں۔ان کے متعلق بھی کتابیں ہیں جو نصاب کے طور پر پڑھائی جاتی ہیں حالانکہ وہ کسی اور شخص نے لکھی ہوتی ہیں طلبہ ان کتابوں کو پڑھ کر وہ چیز حاصل کرتے ہیں جو کسی اور نے مشاہدہ کر کے یعنی آنکھ سے دیکھ کر