مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 354 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 354

354 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد د۔دوم دد بعض اور چیزوں کے ذریعہ تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔گویا ہماری فکر نے بہت ساری چیزوں کو ملا کر ایک نتیجہ اخذ کیا مثلا یہ کہا کہ جب بھی احمدی اکٹھے ہوتے ہیں تو ان کی جو مختلف حرکات اور جو مختلف کلمات ہم تک پہنچتے ہیں ان سے ہم یہی نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمدی خلوص نیت کے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں۔مثلاً جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک لاکھ مرد وزن کا اجلاس ہوتا ہے مگر ان کا آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔چنانچہ اس لڑائی جھگڑے کا فقدان اور دیگر ظاہری علوم جو ظاہری حواس سے حاصل کردہ ہیں ان سے قوت فکر یہ اس نتیجہ پر پہنچتی ہے کہ احمدی نوجوان یہاں خلوص نیت کے ساتھ جمع ہوئے ہیں۔پس ثابت ہوا کہ انسانی فکر علم بسیط کی مختلف تاروں اور دھاگوں کو جوڑ کر ایک نتیجہ نکالتی ہے جس نتیجہ کا انسان کے ظاہری حواس کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق اس کی قوت فکریہ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ علم کا دوسرا مرحلہ ہے۔علم کا تیسرا مرحلہ عقل انسانی چنانچہ غور وفکر کرنے سے جب ایک نتیجہ نکل آتا ہے تو پھر انسان کا علم تیسرے مرحلے میں داخل ہوتا ہے جس کی روسے پریکٹیکل لائف یعنی عملی میدان میں یہ پتہ لینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ نتیجہ صبح نکلا ہے یا نہیں گویا جس طرح سائنس میں تجربے کئے جاتے ہیں اسی طرح سوشل سائنس میں بھی تجربے کئے جاتے ہیں اور یہ کام انسانی عقل سے تعلق رکھتا ہے۔چنانچہ انسانی فکر جو نتائج اخذ کرتی ہے ان کی صحت معلوم کرنے کیلئے از روئے عقل تجربہ کرنا پڑتا ہے۔مثلاً اس وقت آپ کے اجتماع کا جتنا پر وگرام آپ کے سامنے پیش ہو رہا ہے یہ گویا سب تجر بہ ہی ہوگا۔یہ معلوم کرنے کیلئے کہ آپ یہاں خلوص نیت کے ساتھ اکٹھے ہوئے ہیں یا نہیں۔اگر آپ سب کے سب مجوزہ پروگرام میں حصہ لیں گے اور اس ماحول سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے تو عقل کی کسوٹی پر ان تین دن کا تجربہ بتائے گا کہ ہمارا فکری نتیجہ مسیح تھا۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں عقل اس قوت کا نام ہے جو انسان کو علم اور فکر وشعور کے مطابق کام کرنے کی توفیق بخشتی ہے۔اسی لئے عاقل اس شخص کو کہتے ہیں جو ی علم صحیح فکر اور صحیح شعور کے مطابق کام کرتا ہے اور عملی میدان میں پہلے علمی اور اس کے بعد فکری نتائج کی جانچ پرکھ کیلئے تجربے کرتا ہے۔چنانچہ جس وقت وہ تجربہ کرتا ہے تو مادی اور ظاہری حواس سے اسے کام لینا پڑتا ہے اور ان ظاہری حواس کے ذریعہ کئی نئی چیزیں اس کے سامنے آجاتی ہیں۔چنانچہ پہلی سٹیج کے بعد پھر دوسری سٹیج میں بعض نئی باتیں ظاہری حواس کے نتیجہ میں اس کے سامنے آتی ہیں تو وہ پھر فکر سے کام لیتے ہوئے ان پر غور کرتا ہے۔پھر وہ کچھ نتائج اخذ کرتا ہے۔پھر وہ عمل کے میدان میں اپنی عقل کے زور سے ان کو پر کھنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر اس عملی تجربے کے وقت بھی کئی نئی چیزیں انسان کے سامنے آتی ہیں اور یہ ایک ایسا چکر بن جاتا ہے جو انسان کے علم کو بڑھانے کیلئے چلتا رہتا ہے۔مثلاً آپ کیمسٹری کو لے لیں۔