مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 247
247 فرموده ۱۹۷۰ء د و مشعل راه جلد دوم دد دوسری چیز جس سے ایک خادم کی خدمت کی قوت جلا حاصل کرتی ہے۔اور جو اس کی نشونما کو کمال تک پہنچانے میں ممد و معاون بنتی ہے وہ حلم ہے۔حلم کے معنے ہیں صبر اور بردباری اور طیش میں نہ آنا اور وقار کے ساتھ انتظار کرنا ویسے تو کئی معنوں میں انتظار کا لفظ استعمال ہو جاتا ہے۔لیکن ہمارے لئے تو یہ ہوگا کہ وقار کے ساتھ اس آخری کامیابی کا انتظار کرنا جس کا ہمیں وعدہ دیا گیا ہے۔پس ہم جنہیں یہ یقین ہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے ہیں اور اس کی مخلوق کی ہمدردانہ طور پر خدمت کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو وعدے کئے ہیں وہ ضرور پورے ہوں گے۔ہم نے اپنے دشمن کا دل جیتنا ہے، اپنے فائدے کے لئے نہیں بلکہ حضرت محمد رسول اللہ علہ کی غلامی میں لانے کے لئے۔اس لئے بڑے وقار کے ساتھ ان وعدوں کے پورا ہونے کا انتظار کریں۔طیش میں نہ آئیں، صبر اور وقار والی زندگی گزاریں۔پہلے حصے کو میں نے زیادہ وقت دے دیا ہے۔اب میں جلدی جلدی مضمون کو ختم کروں گا۔پھر کسی وقت انشاء اللہ تفصیلی ذکر آ جائے گا۔تیسرا ذریعہ قوت خدمت کی نشو ونما کو کمال تک پہنچانے کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کرم بتایا ہے۔کرم کے معنے ایک تو درگزر کرنے کے ہوتے ہیں اور دوسرے جود یعنی سخاوت کرنے کے۔دراصل درگزر کر نا بھی سخاوت ہی کا ایک پہلو ہے اس لئے کہ جو بھی شخص اپنے مال و دولت کا ایک حصہ دوسرے کو دیتا ہے۔وہ اپنے ایک جائز حق میں سے دے رہا ہوتا ہے اور جو درگزر کرتا ہے وہ انتقام لینے کا جو حق ہے اسے وہ چھوڑ دیتا ہے۔شرط وہاں اللہ تعالیٰ نے یہ لگائی ہے کہ دوسرا اگر عفو کرنے سے اپنے گناہ میں اور زیادہ بڑھتا ہے تو پھر تھوڑا سا انتقام بھی لے لینا چاہیئے۔لیکن اصل بنیادی چیز یہی ہے کہ درگزر کرنا بہتر ہے یعنی جو انتقام لینے کا حق ہے اسے چھوڑ دینا چاہیئے۔اسی طرح یہ بھی سخاوت کا ایک پہلو ہے۔غرض یہ دونوں پہلو نفی اور مثبت جو سخاوت کے اندر پائے جاتے ہیں وہی کرم کے لفظ کے اندر پائے جاتے ہیں اور خدام کو ہر وقت سوچتے رہنا چاہیئے کہ یہ عادت ان کے اندر پائی جاتی ہے یا نہیں۔اس میں اپنے اور غیر بھی آ جاتے ہیں بعض دفعہ انسان جہالت کے نتیجہ میں یا لاعلمی میں دوسرے کو دکھ پہنچا دیتا ہے تو جس کو دُکھ پہنچا ہو اس کا یہ فرض ہے کہ اس نے خادم بننا ہے وہ مقابلہ میں اپنا ہاتھ نہ اٹھائے اور بدلہ نہ لے اور انتقام کی طرف متوجہ نہ ہو۔میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے۔بعض واقعات ایسے گزر جاتے ہیں۔انسان کی زندگی میں جنہیں وہ عمر بھر بھلا نہیں سکتا۔میں چھوٹا تھ مدرسہ احمدیہ میں پڑھا کرتا تھا۔حضرت ام المومنین رضی اللہ عنھا نے مجھے پالا ہے اُن کے پاس میں رہتا تھا۔انہوں نے مجھے یہ حکم دے رکھا تھا کہ میں باقی نمازیں تو مسجد مبارک میں پڑھوں لیکن چونکہ پڑھنا اور پھر سونا ہوتا تھا اور مسجد مبارک میں نماز دیر سے ہوتی تھی۔اس لئے عشاء کی نماز کے لئے مسجد اقصیٰ جایا کروں۔وہ بھی پاس ہی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ چونکہ ہر وقت کام میں مشغول رہتے تھے بعض دفعہ دیر سے نماز کے