مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 248
مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷ء 248 لئے تشریف لاتے تھے۔اب بعض دفعہ مجھے دس پندرہ منٹ کی بھی دیر ہو جائے تو نمازی گھبرا جاتے ہیں مگر ہم نے تو وہ نمازیں بھی پڑھیں ہیں جن میں حضور دو دو گھنٹے کی دیر کے بعد مسجد میں آئے ہیں۔آپ تو خدا کے گھر میں بیٹھے ہوتے ہیں اور جو خدا کے گھر میں بیٹھا ہوا ہے اُسے باہر جانے کی جلدی کیسے ہوسکتی ہے۔اپنے گھر سے باہر نکلنے کی جلدی نہیں ہوتی۔بہر حال میں عشاء کی نماز میں مسجد اقصیٰ جایا کرتا تھا۔دار مسیح کے نیچے ایک گلی تھی (اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہوئے خدام میں سے اکثر ایسے ہیں جنہیں قادیان میں دار مسیح کا کچھ پتہ نہیں ہے ) وہ گلی چھتی ہوئی تھی اور وہاں اندھیرا ہوا کرتا تھا۔ایک روز جس وقت میں نیچے اتر اتو اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طالب علموں کی قطار ( وہ قطار میں نماز پڑھنے جایا کرتے تھے ) اسی گلی میں سے گزرہی تھی۔میں بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔لیکن چونکہ اندھیرا تھا اس لئے اتفاقاً میرا پاؤں مجھ سے آگے چلنے والے لڑکے کے پاؤں پر پڑا۔اس نے سلیپر پہنے ہوئے تھے جب اس نے ایڑی اٹھائی تو اس کے سلیپر پر میرا پنجہ پڑ گیا تو اسے جھٹکا لگا مگر اس نے درگذر سے کام لیا۔لیکن خدا کا کرنا کیا ہوا کہ چار پانچ قدم کے بعد دوبارہ میرا پاؤں اس پر جا پڑا تو اسے یہ خیال گزرا کہ شاید کوئی شرارت کر رہا ہے۔چنانچہ اس نے پیچھے مڑ کر تاڑ سے میرے منہ پر چپیڑ لگادی۔خیر میں نے اس وقت دل میں سوچا کہ اس کو کچھ پتہ نہیں اس نے کیا کیا ہے اور اُس نے کسے چیڑ لگائی ہے اگر اسے پتہ لگ گیا تو یہ شرمندہ ہوگا۔میں کیوں اسے شرمندگی کا دُکھ دوں۔یہ سوچ کر میں وہاں سے ایک طرف پیچھے ہٹ گیا اور جب پندرہ ہیں طالب علم گزر گئے تو پھر میں ان کے ساتھ ہولیا۔نہ مجھے پتہ ہے کہ وہ کونسا شخص ہے اور نہ اُسے (اگر وہ اب تک زندہ ہے ) پتہ ہے کہ اس نے کس کو چپیڑ لگائی تھی۔پس مجھے یہ واقعہ بڑا پیارا لگتا ہے کیونکہ بچپن میں آدمی ویسے بھی بعض دفعہ تیزیاں دکھا جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس وقت سمجھ عطا کی کہ چیڑ کے مقابلے میں چیر نہیں لگانی۔بعض دفعہ جہالت کے نتیجہ میں یا بعض دفعہ ویسے ہی نالائقی کے نتیجہ میں احمدی ایک دوسرے کو دکھ پہنچاتے ہیں یہ زندگی کے حقائق ہیں ان تلخ حقائق سے ہمیں انکار نہیں کرنا چاہئے ورنہ ہم ان سے نپٹ نہیں سکیں گے۔بعض احمدی بھی ایک دوسرے کو دکھ پہنچاتے ہیں جس سے میرے لئے بھی بڑے دُکھ پیدا ہو جاتے ہیں۔مجھے دونوں طرف سے تکلیف ہوتی ہے۔ظالم کے لئے بھی اور مظلوم کے لئے بھی کڑھنا پڑتا ہے۔تکلیف اٹھانی پڑتی ہے اور پھر کچھ وقت دعاؤں کے لئے بھی دینا پڑتا ہے۔یہ آپ کا حق ہے اور میرا فرض ہے۔یہ تو میں کرتا ہی رہتا ہوں۔پس چاہے مخالف کے ہاتھ سے تکلیف پہنچے چاہے اپنے بھائی کے ہاتھ سے تکلیف پہنچے۔ہر دو صورتوں میں درگزر سے کام لینا چاہیئے اگر درگزر نہیں کریں گے تو آپ حقیقی خادم نہیں کہلا سکیں گے۔اگر درگزر سے کام نہیں لیں گے تو آپ اپنی اس قوت خدمت کی نشو ونما کو کمال تک نہیں پہنچا سکیں گے۔آپ کے لئے ضروری ہے کہ نفس کے اوپر پورا ضبط ہو یہ نہیں کہ منہ زور گھوڑے کی طرح نفس جدھر چاہے انسان کو لے جائے بلکہ جس طرح ایک اچھا سوار ایک ہلکے سے اشارے کے ساتھ گھوڑے کو چلنے یا کھڑے ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اسی طرح آپ کا اپنے نفس کے ساتھ تعلق ہونا چاہیئے۔نفس آپ پر