مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 246
فرموده ۱۹۷ء 246 د دمشعل راه نل راه جلد دوم اور ہے بھی عورتوں سے تعلق رکھنے والا لیکن بحیثیت انسان مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں ہے۔میری بڑی لڑکی کا پہلا لڑ کا نہایت خوبصورت تھا مگر پیدائش کے بعد اُس نے سانس نہیں لیا۔ہسپتال میں تھے جب گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے کے بعد ڈاکٹر فارغ ہوا اور اس نے اجازت دی کہ آپ بچی سے مل لیں تو میں نے دل میں سوچا اس کا پہلا بچہ ہے۔چھوٹی عمر ہے۔شاید نوعمری میں بہک گئی ہو۔چیرے پر گھبراہٹ ہو۔چنانچہ جب میں اپنی طرف سے اسے تسلی دینے کے لئے گیا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور اس سے مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میں نے اسی وقت اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تجھے زندہ رہنے والا بچہ دے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُسے دوسرا بچہ عطا کیا۔خدا کی چیز تھی اس نے لے لی غم کی کیا بات ہے۔۱۹۵۳ء میں جس صبح ہمیں پکڑ کر لے گئے تھے اُس رات اللہ تعالیٰ نے بتادیا تھا کہ صبح تمہیں گرفتار کر لیں گے۔جو ٹیم آئی ہوئی تھی اسے بھی پتہ نہیں تھا، شاید اس کا آرڈر بعد میں آیا تھا چونکہ مجھے پتہ تھا اس لئے صبح جس وقت انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو میں نے اپنے بچوں کو جس اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ان میں سے ایک تو غالبا ۳ سال کا تھا ) ان سے میں نے کہا کہ میں نے نہ چوری کی نہ ڈا کہ مارا نہ قانون ملکی کو توڑا ہے نہ قانون الہی کو توڑا ہے اگر مجھے آج پکڑ کر لے گئے تو میں مظلوم ہوں اور تمہارے چہروں پر میں نے مسکراہٹ دیکھنی ہے۔ایسا نہ ہو کہ تم منہ بنالو کہ ہمارے ابا کو پکڑ کر لے گئے ہیں چنانچہ گرفتاری کے وقت ۳ سال کے بچے کا چہرہ بھی مسکرا رہا تھا۔ان باتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔اگر ہم نے اپنے رب کے لئے زندگی گزارنی ہے اور اپنے رب کی مخلوق کا خادم بننا ہے تو خواہ وہ امتحان اور ابتلا ء ہو اس رنگ کا جسے قضا وقدر کہتے ہیں، خواہ وہ لوگوں کی طرف سے تکلیف اور ایذا ہو ہمارے چہرے پر سے مسکراہٹ نہیں جانی چاہئے کسی شکل میں بھی نہ حرف شکایت زبان پر لانا چاہیے اور نہ ہمیں غصہ آنا چاہیئے۔کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے عظیم روحانی فرزند نے ہمارے دل سے ہر غیر کی دشمنی نکال کر باہر پھینک دی ہے۔ہمارے دل میں کسی کی دشمنی نہیں ہے۔ہمارے دل میں ہر ایک کے لئے محبت اور پیار اور ہمدردی اور غمخواری کا جذبہ ہے۔جو مرضی وہ کہیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں جو چیز دی ہے وہ تو نہیں چھین سکتے۔نہ انہیں چھینی چاہیئے۔اگر وہ چھین لیں تو بڑے بدقسمت ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے کہ اس نے ہمارے دل کو ان کے لئے محبت اور پیار اور خدمت کے جذبہ سے م ہے۔پس یہ عطا ہے جسے اگر وہ اپنی گالیوں سے چھین لیں تو یہ ان کی بڑی بدقسمتی ہوگی کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں ایک نہایت حسین چیز دی تھی۔مگر انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی اور اسے باہر پھینک دیا۔پس پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر خادم کے اندر خوش خلقی ہونی چاہئے کسی سے لڑنا جھگڑ نانہیں محبت اور پیار سے باتیں کرنی ہیں۔اس وقت آپ دُنیا سے جتنی محبت کریں گے اتنی جلدی آپ ان کے دلوں کو حضرت محمد رسول اللہ اللہ کے عظیم احسان کے سائے کے نیچے لے آئیں گے۔اور انہیں آپ کا غلام بنادیں گے۔