مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 121
121 فرموده ۱۹۶۸ء دو مشعل راه جلد دوم ہوتا ہے کہ وہ قوم جس سے اللہ تعالیٰ کے بے شمار وعدے تھے اگر وہ ان شرائط کو پورا کرتی جو اللہ تعالیٰ نے عائد کی تھیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھاتی جو ان پر ڈالی گئی تھیں اور وہ کام کرتی جن کے کرنے کا ایسے حکم دیا گیا تھا تو ساری دنیا میں قابل عزت صرف یہی ایک قوم تھی۔لیکن اس نے اپنے رب کے احکام کی پرواہ نہ کی اور اس کے ساتھ اپنے تعلق کو پختہ نہ رکھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ دین تو گیا ہی تھا دنیا بھی ساتھ ہی گئی کیونکہ مسلمان کیلئے یہ شرط تھی کہ اسے دنیا تبھی ملے گی جب وہ دینی اور روحانی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی جنت میں داخل ہو جائے۔ہمیں فکر ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ پھر غلبہ اسلام کے سامان پیدا کئے ہیں اور اس نے آپ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ اگر مسلمان اسلام کی اس تعلیم پر جسے آپ نے بڑا روشن اور نمایاں کر کے اور دلائل اور آسمانی تائیدوں کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے مضبوطی پر قائم ہو جائیں تو انہیں دین بھی ملے گا اور دنیا بھی ملے گی اور یہ غلبہ اسلام کا ، یہ غلبہ تو حید باری کا، یہ غلبہ نبی اکرم ﷺ کی محبت کا دنیا میں اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ قیامت نہ آ جائے بشرطیکہ شرائط پوری ہوتی جائیں۔احمدیوں کے لئے خوشخبری غرض یہ وعدہ دہرایا گیا ہے اور نئے سرے سے اسلام کے غلبہ کے سامان پیدا کئے گئے ہیں۔اس لئے ہمیں اپنی نسل کی بھی فکر ہے اور اس نسل کی بھی فکر ہے جس نے ہماری جگہ لینی ہے کیونکہ یہ دنیا تو فانی ہے۔باپ مر جاتا ہے اور بیٹا اس کی جگہ لیتا ہے۔باپ چاہے اللہ تعالیٰ کے فضل کا وارث ہو اور اللہ تعالی اس سے محبت کر رہا ہو۔لیکن بیٹا اپنی نالائقیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے محروم ہو جائے تو اسلام کا غلبہ وہاں اس نسل میں ختم ہو جاتا ہے۔اس لئے ہمیں ہر وقت یہ فکر رہتا ہے کہ ہماری اگلی نسل ہر لحاظ سے پاک اور صاف ہو۔جسمانی لحاظ سے بھی ، اخلاقی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی۔یہاں بھی اب بڑی شکایتیں آنے لگ گئی ہیں۔کیونکہ ہر سال بہت سے دوست باہر سے یہاں آجاتے ہیں چونکہ ان کے بچوں کی تربیت نہیں ہوتی۔اس لئے وہ ہمارے ماحول کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔بچے اور گالیوں کی عادت دیہات میں گندی گالیاں دینے کی عادت عام ہے۔ہر سیال یہاں پندرہ میں نئے گھرانے بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ آجاتے ہیں۔ان کے بچوں کی تربیت اچھی نہیں ہوتی۔انہیں گالیاں دینے کی عادت ہوتی ہے تو وہ ہمارے ماحول میں بھی گالیوں کا رواج ڈال دیتے ہیں۔یہ آپ بچوں کا، کہ جو یہاں کے رہنے والے ہیں فرض ہے کہ جہاں بھی اس قسم کی بات دیکھیں وہ اس کی اصلاح کی کوشش کریں یا مجھے رپورٹ کریں۔ایک چھوٹا سا بچہ بھی میرے پاس آکر کہہ سکتا ہے کہ فلاں فلاں بچے غیر تربیت یافتہ ہیں۔ان کی اصلاح کا انتظام کریں۔آپ مکہ